غزل
عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
یہ غزل انسانی غرور، استغنا اور زندگی کی ناپائیداری پر روشنی ڈالتی ہے کہ آنے والے کل کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر دل میں درد اور احساس نہ ہو تو انسانی وجود اور زندگی کی کوئی وقعت نہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
अबस है नाज़-ए-इस्तिग़्ना पे कल की क्या ख़बर क्या हो
ख़ुदा मालूम ये सामान क्या हो जाए सर क्या हो
عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
خدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہو
اپنی بے نیازی اور خود پر بھروسے پر گھمنڈ کرنا فضول ہے کیونکہ آنے والے کل کی کسی کو خبر نہیں، خدا ہی جانتا ہے کہ کل یہ سارا ساز و سامان اور یہ سر (زندگی) کس انجام کو پہنچیں گے۔
2
ये आह-ए-बे-असर क्या हो ये नख़्ल-ए-बे-समर क्या हो
न हो जब दर्द ही या-रब तो दिल क्या हो जिगर क्या हो
یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو
نہ ہو جب درد ہی یارب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو
اس بے اثر آہ اور بے ثمر درخت کا کیا فائدہ؟ اے خدا، جب دل میں درد ہی نہ ہو تو دل اور جگر کی کیا حیثیت ہے؟
3
जहाँ इंसान खो जाता हो ख़ुद फिर उस की महफ़िल में
रसाई किस तरह हो दख़्ल क्यूँकर हो गुज़र क्या हो
جہاں انسان کھو جاتا ہو خود پھر اس کی محفل میں
رسائی کس طرح ہو دخل کیوں کر ہو گزر کیا ہو
جس محفل میں انسان خود اپنے آپ کو ہی کھو بیٹھتا ہو، وہاں کسی کی رسائی کیسے ممکن ہو، داخلہ کس طرح ملے اور گزرنا کیونکر ہو سکتا ہے۔
4
न पूछूँगा मैं ये भी जाम में है ज़हर या अमृत
तुम्हारे हाथ से अंदेशा-ए-नफ़-ओ-ज़रर क्या हो
نہ پوچھوں گا میں یہ بھی جام میں ہے زہر یا امرت
تمہارے ہاتھ سے اندیشۂ نفع و ضرر کیا ہو
میں یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ پیالے میں زہر ہے یا امرت، کیونکہ جب وہ آپ کے ہاتھ سے مل رہا ہو تو مجھے فائدے یا نقصان کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔
5
मुरव्वत से हो बेगाना वफ़ा से दूर हो कोसों
ये सच है नाज़नीं हो ख़ूबसूरत हो मगर क्या हो
مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوں
یہ سچ ہے نازنیں ہو خوب صورت ہو مگر کیا ہو
تم لحاظ و مروت سے ناواقف ہو اور وفا سے کوسوں دور ہو؛ یہ سچ ہے کہ تم نازک اندام اور خوبصورت ہو، لیکن ایسی خوبصورتی کا کیا فائدہ؟
6
शगूफ़े देख कर मुट्ठी में ज़र को मुस्कुराते हैं
कि जब उम्र इस क़दर कोताह रखते हैं तो ज़र क्या हो
شگوفے دیکھ کر مٹھی میں زر کو مسکراتے ہیں
کہ جب عمر اس قدر کوتاہ رکھتے ہیں تو زر کیا ہو
شگوفے اپنی مٹھی میں زر دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ جب زندگی اتنی مختصر ہے تو پھر اس دولت کا کیا فائدہ۔
7
रहा करती है ये हैरत मुझे ज़ुहद-ए-रियाई पर
ख़ुदा से जो नहीं डरता उसे बंदे का डर क्या हो
رہا کرتی ہے یہ حیرت مجھے زہد ریائی پر
خدا سے جو نہیں ڈرتا اسے بندہ کا ڈر کیا ہو
مجھے دکھاوے کی پرہیزگاری پر ہمیشہ تعجب رہتا ہے؛ جو شخص خدا سے نہیں ڈرتا، اسے کسی انسان کا بھلا کیا خوف ہوگا۔
8
कहा मैं ने कि 'नज़्म'-ए-मुब्तला मरता है हसरत में
कहा उस ने अगर मर जाए तो मेरा ज़रर क्या हो
کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں
کہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو
میں نے کہا کہ محبت میں مبتلا نظمؔ حسرت میں مرا جا رہا ہے، تو اس نے جواب دیا کہ اگر وہ مر بھی جائے تو اس میں میرا کیا نقصان ہے؟
9
कहा मैं ने कि है सोज़-ए-जिगर और उफ़ नहीं करता
कहा इस की इजाज़त ही नहीं फिर नौहागर क्या हो
کہا میں نے کہ ہے سوز جگر اور اف نہیں کرتا
کہا اس کی اجازت ہی نہیں پھر نوحہ گر کیا ہو
میں نے کہا کہ میرے دل میں جلن اور درد ہے مگر میں آہ تک نہیں کرتا، اس پر محبوب نے کہا کہ تمہیں تو اس کی اجازت ہی نہیں ہے، پھر تم ماتم کرنے والے کیسے بن سکتے ہو؟
10
कहा मैं ने कि दे उस को इजाज़त आह करने की
कहा उस ने भड़क उठ्ठे अगर सोज़-ए-जिगर क्या हो
کہا میں نے کہ دے اس کو اجازت آہ کرنے کی
کہا اس نے بھڑک اٹھے اگر سوز جگر کیا ہو
میں نے اس سے کہا کہ اسے فریاد اور آہ بھرنے کی اجازت دے دو، تو اس نے کہا کہ اگر اس کے دل کی جلن شعلہ بن کر بھڑک اٹھی تو کیا ہوگا؟
11
कहा मैं ने कि आँसू आँख का लेकिन नहीं थमता
कहा आँखें कोई तलवों से मल डाले अगर क्या हो
کہا میں نے کہ آنسو آنکھ کا لیکن نہیں تھمتا
کہا آنکھیں کوئی تلووں سے مل ڈالے اگر کیا ہو
میں نے کہا کہ میری آنکھ کے آنسو کسی طرح تھمتے نہیں ہیں، تو محبوب نے کہا کہ اگر کوئی تمہاری آنکھوں کو اپنے پاؤں کے تلووں سے رگڑ ڈالے تو پھر کیا ہو؟
12
कहा मैं ने क़दम भर पर है वो सूरत दिखा आओ
कहा मुँह फेर कर इतना किसी को दर्द-ए-सर क्या हो
کہا میں نے قدم بھر پر ہے وہ صورت دکھا آؤ
کہا منہ پھیر کر اتنا کسی کو درد سر کیا ہو
میں نے کہا کہ وہ بس ایک قدم کے فاصلے پر ہے جا کر اسے اپنی صورت دکھا آؤ، تو اس نے منہ پھیر کر کہا کہ کوئی اتنی سر دردی کیوں مول لے۔
13
कहा मैं ने असर मुतलक़ नहीं क्या संग-दिल है तू
कहा जब दिल हो पत्थर का तो पत्थर पर असर क्या हो
کہا میں نے اثر مطلق نہیں کیا سنگ دل ہے تو
کہا جب دل ہو پتھر کا تو پتھر پر اثر کیا ہو
میں نے کہا کہ تم پر بالکل بھی اثر نہیں ہوتا، تم کس قدر سنگ دل ہو؛ اس نے جواب دیا کہ جب دل ہی پتھر کا ہو تو بھلا پتھر پر کوئی اثر کیسے ہو سکتا ہے۔
14
कहा मैं ने जो मर जाए तो क्या हो सोच तू दिल में
कहा ना-आक़िबत-अँदेश ने कुछ सोच कर क्या हो
کہا میں نے جو مر جائے تو کیا ہو سوچ تو دل میں
کہا ناعاقبت اندیش نے کچھ سوچ کر کیا ہو
میں نے کہا کہ اپنے دل میں ذرا سوچو کہ اگر کوئی مر جائے تو کیا ہوگا، اس پر اس بے پرواہ نے جواب دیا کہ بھلا سوچنے سے کیا حاصل ہوگا۔
15
कहा मैं ने ख़बर भी है कि दी जाँ उस ने घुट घट कर
कहा मर जाए चुपके से तो फिर मुझ को ख़बर क्या हो
کہا میں نے خبر بھی ہے کہ دی جاں اس نے گھٹ گھٹ کر
کہا مر جائے چپکے سے تو پھر مجھ کو خبر کیا ہو
میں نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ اس نے گھٹ گھٹ کر اپنی جان دے دی؛ اس نے جواب دیا کہ اگر کوئی یوں خاموشی سے مر جائے تو بھلا مجھے کیسے خبر ہوگی؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
