کہا میں نے خبر بھی ہے کہ دی جاں اس نے گھٹ گھٹ کر کہا مر جائے چپکے سے تو پھر مجھ کو خبر کیا ہو

“I said, 'Do you even know he breathed his last, pining away in pain?' Said she, 'If one dies so silently, how could news ever reach me?'”

— نظم طباطبائی
معنی

میں نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ اس نے گھٹ گھٹ کر اپنی جان دے دی؛ اس نے جواب دیا کہ اگر کوئی یوں خاموشی سے مر جائے تو بھلا مجھے کیسے خبر ہوگی؟

تشریح

یہ شعر محبوب کے تغافل اور سنگ دلی کی ایک انتہائی کاٹ دار اور دردناک تصویر ہے۔ عاشق نے ساری عمر یہ سوچ کر خاموشی سے جان گلا دی کہ ضبطِ غم ہی سچی محبت ہے، مگر المیہ دیکھیے کہ محبوب اسی خاموشی کو اپنی بے رخی کا عذر بنا لیتا ہے۔ محبوب کا یہ بے پروا جواب دل کو چھلنی کر دیتا ہے کہ جو چپ چاپ مر جائے، اس کی بھلا کسے پروا یا خبر ہو سکتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev15 / 15