“I said: 'And yet the tears from these eyes refuse to cease.' / She said: 'What if one were to rub those eyes beneath my soles?'”
میں نے کہا کہ میری آنکھ کے آنسو کسی طرح تھمتے نہیں ہیں، تو محبوب نے کہا کہ اگر کوئی تمہاری آنکھوں کو اپنے پاؤں کے تلووں سے رگڑ ڈالے تو پھر کیا ہو؟
اس شعر میں عاشق اور محبوب کے مابین سوال و جواب کا ایک دلکش اور شوخ انداز ملتا ہے۔ عاشق جب فریاد کرتا ہے کہ اس کے آنسو کسی طور نہیں تھمتے، تو محبوب بڑی بے نیازی سے ایک ایسا علاج تجویز کرتا ہے جو جتنا ظالمانہ ہے اتنا ہی پُرلذت۔ محبوب کے تلووں تلے آنکھیں ملنا عشق میں تسلیم و رضا کی انتہا ہے، جہاں عاشق پر ستم بھی ہوتا ہے اور اسے محبوب کی قربت کا انوکھا شرف بھی مل جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
