“A stranger to kindness, leagues away from being true; it's true you are lovely and delicate, but what does that make of you?”
تم لحاظ و مروت سے ناواقف ہو اور وفا سے کوسوں دور ہو؛ یہ سچ ہے کہ تم نازک اندام اور خوبصورت ہو، لیکن ایسی خوبصورتی کا کیا فائدہ؟
اس شعر میں شاعر محبوب کے روپ اور نزاکت کا دل سے اعتراف تو کرتا ہے، مگر بڑی سادگی اور بیباکی سے کہتا ہے کہ نری ظاہری خوبصورتی کچھ معنی نہیں رکھتی۔ اگر انسان کے اندر مروت، دردِ دل اور وفا کا سلیقہ ہی نہ ہو تو ایسا روپ دل کو موہ تو سکتا ہے مگر دل میں گھر نہیں بنا سکتا۔ یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ سچا حسن چہرے کے نکھار میں نہیں بلکہ سیرت کے خلوص میں چھپا ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
