کہا میں نے کہ دے اس کو اجازت آہ کرنے کی کہا اس نے بھڑک اٹھے اگر سوز جگر کیا ہو

“I pleaded, 'Grant him leave to breathe a sigh;' / She said, 'What if the burning heart flares into a blaze?'”

— نظم طباطبائی
معنی

میں نے اس سے کہا کہ اسے فریاد اور آہ بھرنے کی اجازت دے دو، تو اس نے کہا کہ اگر اس کے دل کی جلن شعلہ بن کر بھڑک اٹھی تو کیا ہوگا؟

تشریح

اس شعر میں عاشق اور محبوب کے درمیان ایک دل کش اور پرلطف مکالمہ ہے۔ عاشق فریاد کرتا ہے کہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے فقط ایک آہ بھرنے کی اجازت دے دی جائے، مگر محبوب نزاکت سے جواب دیتا ہے کہ سینے میں جو آگ دبی ہوئی ہے، آہ کے جھونکے سے اگر وہ بھڑک اٹھی تو کیا ہوگا؟ یہ شعر عشق کے اس سوز کو ظاہر کرتا ہے جہاں درد کا ذرا سا اظہار بھی ایک عالم کو جلا سکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.