“I am left in endless wonder at this hypocritical piety: one who fears not God, why would he fear mortal man?”
مجھے دکھاوے کی پرہیزگاری پر ہمیشہ تعجب رہتا ہے؛ جو شخص خدا سے نہیں ڈرتا، اسے کسی انسان کا بھلا کیا خوف ہوگا۔
اس شعر میں شاعر نے دکھاوے کی پارسائی یعنی 'زہدِ ریائی' پر بڑا کاٹ دار اور پُرلطف طنز کیا ہے۔ وہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ صرف دنیا کو مائل کرنے کے لیے تقوے کا لبادہ اوڑھتے ہیں، ان کے کردار کا کھوکھلا پن عیاں ہے۔ جس انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے کا سچا خوف اور احترام ہی نہ ہو، وہ عام بندوں کی کیا پروا کرے گا۔ یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی نیکی خاموش سچائی میں ہے، محض نمائش میں نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
