“I will not even ask if the cup holds poison or nectar divine; offered by your hand, what fear could there be of loss or gain?”
میں یہ بھی نہیں پوچھوں گا کہ پیالے میں زہر ہے یا امرت، کیونکہ جب وہ آپ کے ہاتھ سے مل رہا ہو تو مجھے فائدے یا نقصان کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔
یہ شعر عشق میں کامل سپردگی اور بے پناہ اعتماد کی دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ جب محبوب اپنے دستِ ناز سے جام عطا کر رہا ہو، تو یہ جانچنا ہی فضول ہے کہ اس میں حیات بخش امرت ہے یا ہلاکت خیز زہر۔ سچی محبت نفع و نقصان کے تمام حسابی پیمانوں سے آزاد ہوتی ہے، اور محبوب کے ہاتھ سے ملا ہوا ہر انجام بخوشی قبول ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
