“Where one loses one's own self within that gathering, how could there be access, how entrance, what passage could there be?”
جس محفل میں انسان خود اپنے آپ کو ہی کھو بیٹھتا ہو، وہاں کسی کی رسائی کیسے ممکن ہو، داخلہ کس طرح ملے اور گزرنا کیونکر ہو سکتا ہے۔
اس شعر میں شاعر ایک ایسی پُراثر اور پُرجلال محفل کا نقشہ کھینچ رہے ہیں جہاں پہنچتے ہی انسان اپنے ہوش و حواس اور وجود کو گنوا بیٹھتا ہے۔ جب اس فضا میں انسان کی اپنی ذات ہی فنا ہو جائے، تو پھر وہاں کسی رسائی، عمل دخل یا گزر کی کیا گنجائش بچتی ہے؟ یہ دراصل محبت کی اس انتہا کا بیان ہے جہاں محبوب کی عظمت کے آگے عاشق کی انا مٹ جاتی ہے اور صرف حیرت باقی رہ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
