کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں کہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو

“I said, 'The love-afflicted Nazm is dying of unfulfilled desire'; she said, 'And if he were to die, what loss would that be of mine?'”

— نظم طباطبائی
معنی

میں نے کہا کہ محبت میں مبتلا نظمؔ حسرت میں مرا جا رہا ہے، تو اس نے جواب دیا کہ اگر وہ مر بھی جائے تو اس میں میرا کیا نقصان ہے؟

تشریح

اس شعر میں عاشق کی لاچاری اور محبوب کی بے رحم بے نیازی کا ایک تلخ اور دل چسپ مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔ شاعر نے یہ سوچ کر اپنی حسرتوں اور تڑپ کا رونا رویا کہ شاید محبوب کے دل میں رحم کا کوئی جذبہ جاگ اٹھے۔ مگر محبوب نے کمال بے رخی سے جواب دیا کہ اگر وہ مر بھی جائے تو اس کا کیا نقصان ہوگا؟ یہ شعر محبت کے اس دکھ کو بڑی سادگی سے بیان کرتا ہے جہاں عاشق کی پوری ہستی کی قیمت محبوب کے نزدیک کچھ بھی نہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.