کہا میں نے کہ ہے سوز جگر اور اف نہیں کرتا کہا اس کی اجازت ہی نہیں پھر نوحہ گر کیا ہو

“I said, 'My heart burns with torment, yet not a sigh escapes my breath.' She replied, 'Even that is forbidden—why claim then to be a mourner at death?'”

— نظم طباطبائی
معنی

میں نے کہا کہ میرے دل میں جلن اور درد ہے مگر میں آہ تک نہیں کرتا، اس پر محبوب نے کہا کہ تمہیں تو اس کی اجازت ہی نہیں ہے، پھر تم ماتم کرنے والے کیسے بن سکتے ہو؟

تشریح

اس شعر میں عاشق اور محبوب کے درمیان ایک دلکش مگر تیکھی گفتگو پیش کی گئی ہے۔ عاشق اپنے ضبط اور وفاداری کی داد چاہتے ہوئے کہتا ہے کہ میرا دل غم کی آگ میں جل رہا ہے مگر لبوں پر اف تک نہیں آتی۔ اس پر محبوب کمالِ بے نیازی سے جتاتا ہے کہ عشق کی بزم میں تو آہوں کی اجازت ہی نہیں، پھر اس لازمی خاموشی کو بنیاد بنا کر خود کو بڑا ماتم دار ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.