“Seeing the gold clasped in their fist, the blossoms gently smile— / What worth is wealth when life endures for such a fleeting while?”
شگوفے اپنی مٹھی میں زر دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ جب زندگی اتنی مختصر ہے تو پھر اس دولت کا کیا فائدہ۔
اس شعر میں شاعر نے کلیوں کے کھلنے کو ایک گہرے فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ کلی کے اندر موجود زرد رنگ کا زرِ گل یوں لگتا ہے جیسے اس نے مٹھی میں سونا چھپا رکھا ہو، مگر کھلتے ہوئے وہ مسکرا کر گویا اس دولت پر طنز کرتی ہے۔ یہ لطیف منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب زندگی اتنی مختصر اور ناپائیدار ہے، تو پھر مال و زر کو سمیٹنے اور سنبھالنے کی ہوس کا کیا فائدہ؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
