شگوفے دیکھ کر مٹھی میں زر کو مسکراتے ہیں کہ جب عمر اس قدر کوتاہ رکھتے ہیں تو زر کیا ہو

“Seeing the gold clasped in their fist, the blossoms gently smile— / What worth is wealth when life endures for such a fleeting while?”

— نظم طباطبائی
معنی

شگوفے اپنی مٹھی میں زر دیکھ کر مسکراتے ہیں کہ جب زندگی اتنی مختصر ہے تو پھر اس دولت کا کیا فائدہ۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے کلیوں کے کھلنے کو ایک گہرے فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ کلی کے اندر موجود زرد رنگ کا زرِ گل یوں لگتا ہے جیسے اس نے مٹھی میں سونا چھپا رکھا ہو، مگر کھلتے ہوئے وہ مسکرا کر گویا اس دولت پر طنز کرتی ہے۔ یہ لطیف منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب زندگی اتنی مختصر اور ناپائیدار ہے، تو پھر مال و زر کو سمیٹنے اور سنبھالنے کی ہوس کا کیا فائدہ؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.