“What worth an unavailing sigh, what use a barren tree? / Without the ache of pain, O Lord, what good are heart and soul?”
اس بے اثر آہ اور بے ثمر درخت کا کیا فائدہ؟ اے خدا، جب دل میں درد ہی نہ ہو تو دل اور جگر کی کیا حیثیت ہے؟
شاعر نے اس خوبصورت شعر میں بے اثر آہ اور بے پھل درخت کا استعارہ دے کر سمجھایا ہے کہ احساس سے خالی وجود بے معنی ہے۔ اردو شاعری کی روایت میں 'درد' محض تکلیف نہیں بلکہ انسانیت، تڑپ اور زندہ ضمیر کی سب سے سچی علامت ہے۔ اگر دل میں محبت اور ہمدردی کی کسک ہی باقی نہ رہے، تو دل اور جگر محض گوشت کے بے جان لوتھڑے بن کر رہ جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
