“Vain is this pride of aloof disdain, for who knows what tomorrow brings? God alone knows what becomes of all these trappings, or of this very head.”
اپنی بے نیازی اور خود پر بھروسے پر گھمنڈ کرنا فضول ہے کیونکہ آنے والے کل کی کسی کو خبر نہیں، خدا ہی جانتا ہے کہ کل یہ سارا ساز و سامان اور یہ سر (زندگی) کس انجام کو پہنچیں گے۔
شاعر یہاں انسان کو غفلت سے جگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی بے نیازی اور دولت و جاہ پر اترانا بالکل بے معنی ہے، کیونکہ آنے والے پل کی کسی کو خبر نہیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ کل اس تمام ساز و سامان کا کیا بنے گا اور یہ غرور سے اٹھا ہوا سر سلامت بھی رہے گا یا نہیں۔ زندگی کی اس ناپائیداری میں تکبر کے بجائے عاجزی اختیار کرنا ہی سب سے بڑی دانائی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
