غزل
नाला-ए-इज्ज़ नक़्स-ए-उलफ़त है
नाला-ए-इज्ज़ नक़्स-ए-उलफ़त है
یہ غزل بتاتی ہے کہ نالۂ عزت اور نقشۂٔ اُلفت ہی سب کچھ ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ رنج و محنت سے بھی کمال کی راحت ملتی ہے، مگر عشق میں صرف گریۂ ندامت ہوتا ہے۔ زندگی میں غم اور خوشی کا کوئی ثابتا مقام نہیں، کیونکہ دل میں زخم (ناسور) ہے، اس لیے ہر طرف زخم کرنے والی جگہ ہی نظر آتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
नाला-ए-इज्ज़ नक़्स-ए-उलफ़त है
रंज-ओ-मेहनत कमाल राहत है
نالۂ عجز نقص الفت ہے
رنج و محنت کمال راحت ہے
इज्ज़त کی ندی محبت کا دھوکہ ہے، مگر رنج و محنت ہی اصل سکون کا کمال ہے۔
2
इश्क़ ही गिर्या-ए-नदामत है
वर्ना आशिक़ को चश्म-ए-ख़िफ़्फ़त है
عشق ہی گریۂ ندامت ہے
ورنہ عاشق کو چشم خفت ہے
عشق ہی گریۂ ندمت ہے، ورنہ عاشق کو چشمِ خفّت ہے۔
3
ता दम-ए-मर्ग ग़म ख़ुशी का नहीं
दिल-ए-आज़ुर्दा गर सलामत है
تا دم مرگ غم خوشی کا نہیں
دل آزردہ گر سلامت ہے
شاعر کہتا ہے کہ موت کا نشہ نہ غم میں ہے اور نہ خوشی میں؛ اگر نیلا دل سلامت ہے، تو وہ ایسا ہی ہے۔
4
दिल में नासूर फिर जिधर चाहे
हर तरफ़ कूचा-ए-जर्राहत है
دل میں ناسور پھر جدھر چاہے
ہر طرف کوچۂ جراحت ہے
دل میں ناسور پھر جِدھر چاہے، ہر طرفہ کوچہِ جراحیت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دل میں زخم (ناسور) کہیں بھی کھل سکتا ہے، اور ہر طرف صرف آپریشن کی ضرورت ہے۔
5
रोना आता है दम-ब-दम शायद
कसो हसरत की दिल से रुख़्सत है
رونا آتا ہے دم بدم شاید
کسو حسرت کی دل سے رخصت ہے
شاید آنسو بوند بوند بہہ رہے ہیں، کیونکہ دل کی ہجر نے رخصت لے لی ہے۔
6
फ़ित्ने रहते हैं उस के साए में
क़द-ओ-क़ामत तिरा क़यामत है
فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میں
قد و قامت ترا قیامت ہے
تَنَازُل (فِتَن) اس کے سائے میں رہتے ہیں، اور تیری قَد و قَامَت ہی قَیاومت ہے۔
7
न तुझे रहम ने उसे टुक सब्र
दिल पे मेरे अजब मुसीबत है
نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبر
دل پہ میرے عجب مصیبت ہے
ن تجھے رحم نے اسے ٹوک صبر، دل پہ میرے عجب مصیبت ہے ۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ نہ رحم سے نہ صبر سے اسے کچھ ہوا، اور یہ میرے دل پر ایک عجیب مصیبت ہے۔
8
तू तो नादान है निपट नासेह
कब मोअस्सिर तिरी नसीहत है
تو تو نادان ہے نپٹ ناصح
کب مؤثر تری نصیحت ہے
تُو تو نادان ہے، نپٹ ناصیہ۔ کب مؤثر تیری نصیحت ہے۔
9
दिल पे जब मेरे आ के ये ठहरा
कि मुझे ख़ुश-दिली अज़िय्यत है
دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہرا
کہ مجھے خوش دلی اذیت ہے
جب یہ میرے دل پر آ کے ٹھہرا، کہ مجھے خوش دلی اذیت ہے۔
10
रंज-ओ-मेहनत से बाज़ क्यूँके रहूँ
वक़्त जाता रहे तो हसरत है
رنج و محنت سے باز کیونکے رہوں
وقت جاتا رہے تو حسرت ہے
رنج و محنت سے باج کیوں کے رہوں، وقت جاتا رہے تو حسرت ہے. اس کا مطلب ہے کہ جب وقت گزر رہا ہے اور دل میں ایک شدید خواہش ہے، تو میں غم اور مشقت سے دور کیوں رہوں۔
11
क्या है फिर कोई दम को क्या जानो
दम ग़नीमत मियाँ जो फ़ुर्सत है
کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانو
دم غنیمت میاں جو فرصت ہے
کیا ہے پھر کوئی دم، کو کیا جانوں۔ دم گنیمت میاں، جو فرصت ہے۔
12
तेरा शिकवा मुझे न मेरा तुझे
चाहिए यूँ जो फ़िल-हक़ीक़त है
تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھے
چاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے
مجھے تمہاری شکایت نہیں چاہیے، نہ مجھے اپنی چاہیے؛ یہ وہ سچائی ہے جو محض فریب سے پرے ہے۔
13
तुझ को मस्जिद है मुझ को मय-ख़ाना
वाइज़ा अपनी अपनी क़िस्मत है
تجھ کو مسجد ہے مجھ کو مے خانہ
واعظا اپنی اپنی قسمت ہے
تجھ کو مسجد ہے मुझ کو مے خانہ، وایزا اپنی اپنی قسمت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تم دینداری یا نظام کے مقام پر ہو، اور میں عشق اور نشے کے مقام پر ہوں؛ اور یہ ہماری اپنی الگ الگ تقدیر ہے۔
14
ऐसे हँसमुख को शम्अ' से तश्बीह
शम्अ-ए-मज्लिस की रोनी सूरत है
ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہ
شمع مجلس کی رونی صورت ہے
ایسے ہنسمکھ کو شمع سے تشبیہ، محفل کی رونی صورت ہے۔
15
बातिल-उस-सेहर देख बातिल थे
तेरी आँखों का सेहर आफ़त है
باطل السحر دیکھ باطل تھے
تیری آنکھوں کا سحر آفت ہے
باطل اُس سحر دیکھ باطل تھے / تیری آنکھوں کا سحر آفت ہے
16
अब्र-ए-तर के हुज़ूर फूट बहा
दीदा-ए-तर को मेरे रहमत है
ابر تر کے حضور پھوٹ بہا
دیدۂ تر کو میرے رحمت ہے
آنسوؤں کے بادل کے حضور یہ پھوٹ بہا۔ میری پرنم آنکھوں کے لیے یہ ایک رحمت ہے۔
17
गाह नालाँ तपाँ गहे बे-दम
दिल की मेरे अजब ही हालत है
گاہ نالاں تپاں گہے بے دم
دل کی میرے عجب ہی حالت ہے
میرا دل ایک عجیب سی حالت میں ہے، اے بے دم نالے۔
18
क्या हुआ गर ग़ज़ल क़सीदा हुई
आक़िबत क़िस्सा-ए-मोहब्बत है
کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی
عاقبت قصۂ محبت ہے
کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی / آقبِت قصۂ محبت ہے
19
तुर्बत-ए-'मीर' पर हैं अहल-ए-सुख़न
हर तरफ़ हर्फ़ है हिकायत है
تربت میرؔ پر ہیں اہل سخن
ہر طرف حرف ہے حکایت ہے
میر کی قبر پر ہیں اہل سخن؛ ہر طرف حرف ہے اور ہر طرف کہانی ہے۔
20
तू भी तक़रीब-ए-फ़ातिहा से चल
ब-ख़ुदा वाजिबु्ज़्ज़ियारत है
تو بھی تقریب فاتحہ سے چل
بخدا واجب الزیارت ہے
اے تو بھی تقریبِ فاتحہ سے چل، ب-خدا واجبِ زیارت ہے۔ (معنی: اگرچہ تم شروع (جیسے فاتحہ) سے آغاز کرو، خدا کی زیارت واجب ہے۔)
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
