दिल में नासूर फिर जिधर चाहे
हर तरफ़ कूचा-ए-जर्राहत है
“In the heart, a festering sore again, wherever it wishes, Every direction is an alley of surgery.”
— میر تقی میر
معنی
دل میں ناسور پھر جِدھر چاہے، ہر طرفہ کوچہِ جراحیت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دل میں زخم (ناسور) کہیں بھی کھل سکتا ہے، اور ہر طرف صرف آپریشن کی ضرورت ہے۔
تشریح
یہ شعر دل کے گہرے اور دائمی زخم کو بیان کرتا ہے۔ ناسوور وہ زخم ہے جو کبھی بھرتا نہیں، اور ہر طرف صرف زخم نکالنے کے آلات نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تلافی اور دائمی اذیت کی عکاسی ہے۔
