غزل

लज़्ज़त से नहीं ख़ाली जानों का खपा जाना

लज़्ज़त से नहीं ख़ाली जानों का खपा जाना
میر تقی میر· Ghazal· 16 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ کسی کی زندگی کی لَذّت صرف حسی لطف تک محدود نہیں، بلکہ اس میں گہرے تجربات اور روحانی علم کا بھی امتزاج ہے۔ شاعر مختلف استعارات اور مثالوں کے ذریعے زندگی کی پیچیدگیوں اور اسرار محبت کی حالت کو بیان کرتا ہے، جہاں مادی اور روحانی ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ یہ نظم زندگی کے ہر پہلو کی گہرائی کو چھوتی ہے، جس میں فانی اور ابدی دونوں کا احساس ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
लज़्ज़त से नहीं ख़ाली जानों का खपा जाना कब ख़िज़्र ओ मसीहा ने मरने का मज़ा जाना
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا
जानों का खपा जाना (یعنی زندگی کا مزہ) ہے، اور خضر و مسیحا نے کبھی مرنے کا مزہ نہیں جانا۔
2
हम जाह-ओ-हशम याँ का क्या कहिए कि क्या जाना ख़ातिम को सुलैमाँ की अंगुश्तर-ए-पा जाना
ہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جانا خاتم کو سلیماں کی انگشتر پا جانا
ہم جاہ و ہشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جانا، خاتم کو سلیمان کی انگشت ر-پہ جانا۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ اس جگہ کی عظمت کا بیان کرنا ناممکن ہے، کیونکہ یہاں کی پاکیزگی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں تک کہ خاتم کو بھی سلیمان کے لمس کا تجربہ ہوا۔
3
ये भी है अदा कोई ख़ुर्शीद नमत प्यारे मुँह सुब्ह दिखा जाना फिर शाम छुपा जाना
یہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارے منہ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا
یہ بھی ایک ادا ہے، پیارے، جو سورج کا تحفہ ہے؛ صبح کا چہرہ دکھانا اور شام کو چھپ جانا۔
4
कब बंदगी मेरी सी बंदा करेगा कोई जाने है ख़ुदा उस को मैं तुझ को ख़ुदा जाना
کب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئی جانے ہے خدا اس کو میں تجھ کو خدا جانا
کب بندگی میری سی بندا کرے گا کوئی؟ جانے ہے خدا اس کو، میں تجھ کو خدا جانا۔
5
था नाज़ बहुत हम को दानिस्त पर अपनी भी आख़िर वो बुरा निकला हम जिस को भला जाना
تھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھی آخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا
ہم اپنی دانشت پر بہت ناز کرتے تھے، مگر آخر وہ برا نکلا جسے ہم بھلا سمجھتے تھے۔
6
गर्दन-कशी क्या हासिल मानिंद बगूले की इस दश्त में सर गाड़े जूँ सैल चला जाना
گردن کشی کیا حاصل مانند بگولے کی اس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جانا
گلے کھینچنے سے کیا فائدہ، جیسے بگلے کی؟ اس صحرا میں، بہتر ہے کہ اکیلے ہی نکل جائیں اور چلے جائیں۔
7
इस गिर्या-ए-ख़ूनीं का हो ज़ब्त तो बेहतर है अच्छा नहीं चेहरे पर लोहू का बहा जाना
اس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہے اچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا
اس خون-خاکے کو قابو کرنا بہتر ہے، اور چہرے پر خون کا بہنا اچھا نہیں ہے۔
8
ये नक़्श दिलों पर से जाने का नहीं उस को आशिक़ के हुक़ूक़ आ कर नाहक़ भी मिटा जाना
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کو عاشق کے حقوق آ کر ناحق بھی مٹا جانا
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں، اس کو۔ عاشق کے حقوق آ کر نہ حق بھی مٹا جانا۔
9
ढब देखने का ईधर ऐसा ही तुम्हारा था जाते तो हो पर हम से टुक आँख मिला जाना
ڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمہارا تھا جاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا
یہ یا ڈھب دیکھنا تھا یا تم ہی، کہ تم جاتے ہوئے بھی میری آنکھوں میں ایک نظر ملا گئے۔
10
उस शम्अ की मज्लिस में जाना हमें फिर वाँ से इक ज़ख़्म-ए-ज़बाँ ताज़ा हर रोज़ उठा जाना
اس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سے اک زخم زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا
اس شرم کی مجلس میں جانا ہمیں پھر سے، اور وہاں سے ہر روز زباں کا ایک نیا زخم اٹھا لانا۔
11
ऐ शोर-ए-क़यामत हम सोते ही न रह जावें इस राह से निकले तो हम को भी जगा जाना
اے شور قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویں اس راہ سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا
اے شورِ قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جائیں، اس راہ سے نکلے تو ہمیں بھی جگا جانا۔
12
क्या पानी के मोल आ कर मालिक ने गुहर बेचा है सख़्त गिराँ सस्ता यूसुफ़ का बिका जाना
کیا پانی کے مول آ کر مالک نے گہر بیچا ہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا
کیا پانی کے مول آ کر مالک نے جوہر بیچ دیا؟ کیا سख़्त گراں سستا یوسف کی کہانی کی طرح بکا جانا۔
13
है मेरी तिरी निस्बत रूह और जसद की सी कब आप से मैं तुझ को ऐ जान जुदा जाना
ہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سی کب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا
میرا تیرے سے نسبت روح اور جسد کی سی ہے؛ کب سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا۔
14
जाती है गुज़र जी पर उस वक़्त क़यामत सी याद आवे है जब तेरा यक-बारगी आ जाना
جاتی ہے گزر جی پر اس وقت قیامت سی یاد آوے ہے جب تیرا یکبارگی آ جانا
جب گزرنا قیامت جیسا لگتا ہے، تو مجھے وہ یاد آتی ہے جب تم بس ایک بار آئے تھے۔
15
बरसों से मिरे उस की रहती है यही सोहबत तेग़ उस को उठाना तो सर मुझ को झुका जाना
برسوں سے مرے اس کی رہتی ہے یہی صحبت تیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا
برسون سے میرے اس کی یہی صحبت ہے، کہ اس کا تیغ اٹھانا تو سر کو جھکانا ہے۔
16
कब 'मीर' बसर आए तुम वैसे फ़रेबी से दिल को तो लगा बैठे लेकिन न लगा जाना
کب میرؔ بسر آئے تم ویسے فریبی سے دل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا
شاعر کہہ رہے ہیں کہ وہ ایسے فریب دینے والے ذریعہ سے نہ آئیں، کیونکہ دل تو لگ چکا ہے، لیکن اسے کھونا نہ دیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.