Sukhan AI
غزل

इश्क़ में ज़िल्लत हुई ख़िफ़्फ़त हुई तोहमत हुई

इश्क़ में ज़िल्लत हुई ख़िफ़्फ़त हुई तोहमत हुई
میر تقی میر· Ghazal· 16 shers

یہ غزل عشق کے سفر میں ہونے والی ذلت، خیفت اور جھوٹے الزامات کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ کس طرح عشق نے نہ صرف اسے جھکنا سکھایا، بلکہ اسے رسوائی اور جھوٹے اتهامات کا بھی سامنا کرایا۔ وہ عشق کی اذیت میں اپنے دل کے ٹوٹنے اور تنہائی کا احساس دلاتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इश्क़ में ज़िल्लत हुई ख़िफ़्फ़त हुई तोहमत हुई आख़िर आख़िर जान दी यारों ने ये सोहबत हुई
عشق میں ذلت ہوئی، خفیفت ہوئی، اور تہمت ہوئی؛ آخر کار، یا روں نے جان دی، اور یہ صحبت ہوئی۔
3
लौह-ए-सीना पर मिरी सौ नेज़ा-ए-ख़त्ती लगे ख़स्तगी इस दिल-शिकस्ता की इसी बाबत हुई
میرے سینے کی لوہے کی پلیٹ پر میرے سو خت کے نیزے لگتے ہیں، اسی وجہ سے میرا یہ ٹُٹا ہوا دل تھکا ہوا ہو گیا ہے۔
4
खोलते ही आँखें फिर याँ मूँदनी हम को पड़ीं दीद क्या कोई करे वो किस क़दर मोहलत हुई
آنکھیں کھولتے ہی پھر یہاں بند کرنی ہم کو پڑیں؛ دید کیا کوئی کرے وہ کس قدر محلت ہوئی
5
पाँव मेरा कल्बा-ए-अहज़ाँ में अब रहता नहीं रफ़्ता रफ़्ता उस तरफ़ जाने की मुझ को लत हुई
میرا پاؤں اب گلہائے غم میں نہیں رہتا؛ مجھے آہستہ آہستہ اس طرف جانے کی عادت ہو گئی ہے۔
6
मर गया आवारा हो कर मैं तो जैसे गर्द-बाद पर जिसे ये वाक़िआ' पहुँचा उसे वहशत हुई
اگر میں آوارہ بن کر مر گیا تو میں محض دھول بن جاؤں گا، لیکن جسے یہ واقعہ دیکھ لے گا، وہ ایک المیہ ہوگا۔
7
शाद ओ ख़ुश-ताले कोई होगा किसू को चाह कर मैं तो कुल्फ़त में रहा जब से मुझे उल्फ़त हुई
شاید کوئی خوشی کے باغ میں کسی سے محبت کرے، مگر میں تو تب سے ہی حیری میں رہا جب سے مجھے محبت ہوئی
8
दिल का जाना आज कल ताज़ा हुआ हो तो कहूँ गुज़रे उस भी सानहे को हम-नशीं मुद्दत हुई
اگر دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوں، گزرے اُس بھی سانہے کو ہم‌نشین مُدّت ہوئی।
9
शौक़-ए-दिल हम ना-तवानों का लिखा जाता है कब अब तलक आफी पहुँचने की अगर ताक़त हुई
شوقِ دل ہم ناتوانوں کا لکھا جاتا ہے کب، اب تک آفتابِ فجر تک پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی ۔ (یعنی، ہمارے دل کے یہ نامکمل اور کمزور شوق کب پورے ہوں گے، اگر ہمیں امن کے ساحل تک پہنچنے کی طاقت مل جائے۔)
11
यूँ तो हम आजिज़-तरीन-ए-ख़ल्क़-ए-आलम हैं वले देखियो क़ुदरत ख़ुदा की गर हमें क़ुदरत हुई
اگرچہ ہم اس دنیا کے تھکے ہوئے لوگ ہیں، اے محبوب، دیکھو اگر ہمیں خدا کی قدرت دی جائے تو وہ کیسی ہے۔
12
गोश ज़द चट-पट ही मरना इश्क़ में अपने हुआ किस को इस बीमारी-ए-जाँ-काह से फ़ुर्सत हुई
میرے محبوب، عشق میں مر جانا تو ایک لمحے کا کام تھا، مگر اس بیماریِ جان کیسا کسی کو فرصت ہے۔
13
बे-ज़बाँ जो कहते हैं मुझ को सो चुप रह जाएँगे मारके में हश्र के गर बात की रुख़्सत हुई
جن بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو وہ خاموش ہو جائیں گے، اگر میرے ہجر کے موضوع کی بات کی جائے۔
14
हम न कहते थे कि नक़्श उस का नहीं नक़्क़ाश सहल चाँद सारा लग गया तब नीम-रुख़ सूरत हुई
ہم کبھی نہیں کہتے تھے کہ نقش اس کا نہقکش کی سہل ہے۔ جب چاند سارا لگ گیا، تب نیم رخ صورت ہوئی।
15
इस ग़ज़ल पर शाम से तो सूफ़ियों को वज्द था फिर नहीं मालूम कुछ मज्लिस की क्या हालत हुई
इस غزل پر شام کو صوفیوں میں وجد تھا، مگر اب نہیں معلوم کہ محفل کی کیا حالت ہوئی ہے۔
16
कम किसू को 'मीर' की मय्यत की हाथ आई नमाज़ ना'श पर उस बे-सर-ओ-पा की बला कसरत हुई
کم سے کم 'میر' کی میت پر نماز کے لیے، اس بے سر و پا کی بلا کا نہش پر کثرت ہوئی।
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

इश्क़ में ज़िल्लत हुई ख़िफ़्फ़त हुई तोहमत हुई | Sukhan AI