شوق دل ہم نا توانوں کا لکھا جاتا ہے کب اب تلک آپھی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی

“When will the desires of our hearts, which are powerless, be written? If we had the strength to reach the shore of peace, by now.”

— میر تقی میر
معنی

شوقِ دل ہم ناتوانوں کا لکھا جاتا ہے کب، اب تک آفتابِ فجر تک پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی ۔ (یعنی، ہمارے دل کے یہ نامکمل اور کمزور شوق کب پورے ہوں گے، اگر ہمیں امن کے ساحل تک پہنچنے کی طاقت مل جائے۔)

تشریح

یہ شعر دل کی خواہش اور کمزوری کے درمیان کے تصادم کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ کیا ناتواں دل کا شوق کبھی لکھا جا سکتا ہے؟ کیا آج بھی آفتابِ عشق تک پہنچنے کی طاقت باقی ہے؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.