غزل

या रब ये जहान-ए-गुज़राँ ख़ूब है लेकिन

या रब ये जहान-ए-गुज़राँ ख़ूब है लेकिन
علامہ اقبال· Ghazal· 16 shers

یہ دنیا-ئے گذران خوب ہے، مگر اس میں کئی تضادات اور منافقتیں بھی ہیں۔ شاعر کا خیال ہے کہ لوگ سچائی اور فن کے حقیقی آدمیوں کو نہیں سمجھ پاتے، اور دنیا صرف ظاہری چمک دمک کو ہی اہمیت دیتی ہے۔ یہ معاشرے کے دوہرے معیار اور سطحی نظوں پر ایک تلخ طنز ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
या रब ये जहान-ए-गुज़राँ ख़ूब है लेकिन क्यूँ ख़्वार हैं मर्दान-ए-सफ़ा-केश ओ हुनर-मंद
یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنر مند
یا رب یہ جہاں-اے گزراں خوب ہے لیکن، کیوں خوار ہیں مردانِ صفا-केश و ہنر مند؟
2
गो इस की ख़ुदाई में महाजन का भी है हाथ दुनिया तो समझती है फ़रंगी को ख़ुदावंद
گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند
اس کی खुदाई میں مہاجن کا بھی ہاتھ ہے، دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند।
3
तू बर्ग-ए-गयाहे न दही अहल-ए-ख़िरद रा ओ किश्त-ए-गुल-ओ-लाला ब-बख़शद ब-ख़रे चंद
تو برگ گیاہے نہ دہی اہل خرد را او کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند
اے، تو گزرتے لمحے کا پتا نہیں اور نہ ہی عقل والوں کا گروہ؛ اے گل اور لالیٰ کا قرض، تمہیں کچھ خرید و فروخت دے۔
4
हाज़िर हैं कलीसा में कबाब ओ मय-ए-गुलगूँ मस्जिद में धरा क्या है ब-जुज़ मौइज़ा ओ पंद
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند
کالیسے میں کباب اور باغ کا مے ہے؛ مسجد میں صرف موعظہ اور کتاب کے سوا کیا ہے۔
5
अहकाम तिरे हक़ हैं मगर अपने मुफ़स्सिर तावील से क़ुरआँ को बना सकते हैं पाज़ंद
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند
تیرے احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر تاویل سے قرآن کو بنا سکتے ہیں فریب۔
6
फ़िरदौस जो तेरा है किसी ने नहीं देखा अफ़रंग का हर क़र्या है फ़िरदौस की मानिंद
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا، أفرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند۔
7
मुद्दत से है आवारा-ए-अफ़्लाक मिरा फ़िक्र कर दे इसे अब चाँद के ग़ारों में नज़र-बंद
مدت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکر کر دے اسے اب چاند کے غاروں میں نظر بند
بہت عرصے سے میرا خیال فلک کا بھٹکنے والا تھا، اسے اب چاند کی غاروں میں قید کر دو۔
8
फ़ितरत ने मुझे बख़्शे हैं जौहर मलाकूती ख़ाकी हूँ मगर ख़ाक से रखता नहीं पैवंद
فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند
فطرت نے مجھے جوہرِ ملکوتی عطا کیے ہیں، میں خاک ہوں مگر خاک سے اپنا غرور نہیں چھوڑتا۔
9
दरवेश-ए-ख़ुदा-मस्त न शर्क़ी है न ग़र्बी घर मेरा न दिल्ली न सफ़ाहाँ न समरक़ंद
درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند
درवेशِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ مغربی؛ گھر میرا نہ دِل ہری ہے نہ صفہاں نہ سمرقند۔
10
कहता हूँ वही बात समझता हूँ जिसे हक़ ने आबला-ए-मस्जिद हूँ न तहज़ीब का फ़रज़ंद
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق نے آبلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
میں وہی بات کہتا ہوں، وہی بات سمجھتا ہوں جو حق نے مقرر کی ہے؛ میں نہ مسجد کا محبوب ہوں اور نہ تہذیب کا فرزند۔
11
अपने भी ख़फ़ा मुझ से हैं बेगाने भी ना-ख़ुश मैं ज़हर-ए-हलाहल को कभी कह न सका क़ंद
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی نا خوش میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
میرے اپنے بھی مجھ سے ہیں خفا، اور بیگانے بھی ناخوش؛ میں دوست، زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا۔
12
मुश्किल है हर इक बंदा-ए-हक़-बीन-ओ-हक़-अंदेश ख़ाशाक के तोदे को कहे कोह-ए-दमावंद
مشکل ہے ہر اک بندۂ حق بین و حق اندیش خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند
ہر اک بندے کے لیے حق دیکھنے والا اور حق اندیش ہونا مشکل ہے، جو کہہ سکے کہ خاشاک کے چھوٹے تودے کو کوہِ دماوند جیسا کہہ سکتا ہے۔
13
हूँ आतिश-ए-नमरूद के शो'लों में भी ख़ामोश मैं बंदा-ए-मोमिन हूँ नहीं दाना-ए-असपंद
ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش میں بندۂ مومن ہوں نہیں دانۂ اسپند
میں نمرود کی آگ کے شعلوں میں بھی خاموش ہوں۔ میں ایک مومن ہوں، نہ کہ فساد کا دانا۔
14
पुर-सोज़ नज़र-बाज़ ओ निको-बीन ओ कम आज़ार आज़ाद ओ गिरफ़्तार ओ तही कीसा ओ ख़ुरसंद
پر سوز نظر باز و نکوبین و کم آزار آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند
اے، پرسوژ نظرباز او نکوبین او کم آزار; آزاد او گرفتار، او تہی کیسا او خرسند۔
15
हर हाल में मिरा दिल-ए-बे-क़ैद है ख़ुर्रम क्या छीनेगा ग़ुंचे से कोई ज़ौक़-ए-शकर-ख़ंद
ہر حال میں مرا دل بے قید ہے خرم کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکرخند
हर हाल میں میرا دل بے قید ہے، خرم؛ کوئی گنچے سے شکر خند کا ذوق کیسے چھین سکتا ہے۔
16
चुप रह न सका हज़रत-ए-यज़्दाँ में भी 'इक़बाल' करता कोई इस बंदा-ए-गुस्ताख़ का मुँह बंद
چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔ کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند
میں خاموش نہیں رہ سکا، حضرتِ یزداں میں بھی، 'اقبال' پوچھتا ہے، کون اس گستاخ بندے کا منہ بند کرے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.