غزل
حباب آسا مین دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
حباب آسا مین دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
Source: Kulliyat-e-Aatish (Matba Munshi Naval Kishore, Lucknow) · HI
نغمہ سنیں
1
हुबाब-आसा मैं दम भरता हूँ तेरी आश्नाई का
निहायत ग़म है इस क़तरे को दरिया की जुदाई का
حباب آسا مین دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
نہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کا
حباب کی طرح میں تیری آشنائی کا دم بھرتا ہوں؛ اس قطرے کو دریا سے جدائی کا نہایت غم ہے۔
2
असीर ऐ दोस्त तेरे आशिक़-ओ-माशूक़ दोनों हैं
गिरफ़्तार आहनी ज़ंजीर का ये वो तलाई का
اسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونون ہین
گرفتار آہنی زنجیر کا یہ وہ طلائی کا
اے دوست، تیرے عاشق اور معشوق دونوں ہی قیدی ہیں؛ ایک لوہے کی زنجیر میں جکڑا ہے تو دوسرا سونے کی زنجیر میں۔
3
तअल्लुक़ रूह से मुझको जसद का नागवारा है
ज़माने में चलन है चार दिन की आश्नाई का
تعلق روح سے مجھکو جسد کا ناگوارا ہے
زمانے مین چلن ہے چار دن کی آشنائی کا
مجھے روح کا جسم سے تعلق ناگوار ہے؛ زمانے میں تو چار دن کی آشنائی ہی کا رواج ہے۔
4
फ़िराक़-ए-यार में मर-मर के आख़िर ज़िंदगानी की
रहा सदमा हमेशा रूह-ओ-क़ालिब की जुदाई का
فراق یار مین مرمر کے آخر زندگانی کی
رہا صدمہ ہمیشہ روح و قالب کی جدائی کا
یارِ محبوب کی جدائی میں بار بار مرتے ہوئے آخرکار میں نے زندگی گزار دی؛ روح اور جسم کے جدا ہونے کا صدمہ ہمیشہ باقی رہا۔
5
हुई मंज़ूर मोहताजी न मुझको अपने सायल की
बनाया कासा-ए-सर वाज़गूँ कासा गदाई का
ہوئی منظور محتاجی نہ مجھکو اپنے سائل کی
بنایا کاسۂ سر واژگون کاسہ گدائی کا
مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میرا اپنا سائل محتاج رہے، اس لیے میں نے اپنے سر کی کھوپڑی کو الٹا کر کے بھیک مانگنے کا کاسہ بنا دیا۔
6
नज़र आती हैं हर सू सूरतें ही सूरतें मुझको
कोई आईना-ख़ाना कारख़ाना है ख़ुदाई का
نظر آتی ہین ہر سُو صورتین ہی صورتین مجھکو
کوئی آئینہ خانہ کارخانہ ہے خدائی کا
مجھے ہر طرف صرف چہرے ہی چہرے نظر آتے ہیں۔ کیا خدا کا یہ کارخانہ کوئی آئینوں کا گھر ہے؟
7
निकल ऐ जान तन से ता विसाल-ए-यार हासिल हो
चमन की सैर है अंजाम बुलबुल को रिहाई का
نکل اے جان تن سے تا وصال یار حاصل ہو
چمن کی سیر ہے انجام بلبل کو رہائی کا
اے جان، اس بدن سے نکل جا تاکہ محبوب کا وصال حاصل ہو؛ جیسے بلبل کو رہائی ملنے پر باغ کی سیر نصیب ہوتی ہے، ویسے ہی روح کو بدن سے آزادی پر یار کا ملاپ ملتا ہے۔
8
विसाल-ए-यार का वादा है फ़र्दा-ए-क़यामत पर
यक़ीन मुझको नहीं है गोर तक अपनी रसाई का
وصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پر
یقین مجھکو نہین ہے گور تک اپنی رسائی کا
محبوب سے ملاقات کا وعدہ قیامت کے دن پر رکھا گیا ہے، مگر مجھے تو یہ یقین بھی نہیں کہ میں اپنی قبر تک پہنچ پاؤں گا۔
9
भरोसा आह पर हरगिज़ नहीं ऐ यार आशिक़ को
शिकार अबतक कहीं देखा नहीं तीर-ए-हवाई का
بھروسا آہ پر ہرگز نہین اے یار عاشق کو
شکار ابتک کہین دیکھا نہین تیر ہوائی کا
عاشق کو اپنی آہ پر ہرگز بھروسا نہیں، اے دوست، کیونکہ ہوا میں چھوڑے گئے تیر سے آج تک کہیں کوئی شکار مارا ہوا نہیں دیکھا گیا۔
10
दिखाया हुस्न से एजाज़-ए-मूसा किल्क-ए-क़ुदरत ने
यद-ए-बैज़ा बनाया चोर अंगुश्त-ए-हिनाई का
دکھایا حُسن سے اعجاز موسیٰ کلک قدرت نے
ید بیضا بنایا چور انگشت حنائی کا
قدرت کے قلم نے حُسن کے ذریعے موسیٰ کا معجزہ دکھایا، اور مہندی سے رنگی اُنگلیوں کو یدِ بیضا یعنی چمکتا سفید ہاتھ بنا دیا۔
11
नहीं मिटती है पत्थर की लकीर अहबाब कहते हैं
रहेगा पाए-बुत पर नक़्श अपनी जब्हा-साई का
نہین مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہین
رہے گا پائے بت پر نقش اپنی جبہ سائی کا
احباب کہتے ہیں کہ پتھر پر کھنچی لکیر کبھی نہیں مٹتی، اِس لیے بُت کے قدموں پر میری جبیں رگڑنے کا نقش ہمیشہ باقی رہے گا۔
12
शिकस्त-ए-ख़ातिर-ए-अहबाब होती हो बहुत इस से
तवज्जो में तिरी ऐ यार असर है मोमियाई का
شکست خاطر احباب ہوتی ہو بہت اس سے
توجہ مین تری اے یار اثر ہے مومیائی کا
دوستوں کے دل اس سے بہت ٹوٹتے ہیں؛ اے یار، تیری توجہ میں مومیائی جیسا اثر ہے جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دیتا ہے۔
13
दिल अपना आईना से साफ़ इश्क़-ए-पाक कहता हो
तमाशा देखता है हुस्न इस में ख़ुद-नुमाई का
دل اپنا آئینہ سے صاف عشق پاک کھتا ہو
تماشا دیکھتا ہے حُسن اس میں خود نمائی کا
جب دل آئینے کی طرح صاف ہو کر پاک محبت کی بات کہتا ہے، تو حُسن اُس میں اپنی ہی نمائش کا تماشا دیکھتا ہے۔
14
कफ़-ए-अफ़सोस मलवाती है तेरी पाक-दामानी
नचाकर शाहिद-ए-इस्मत को जामा पारसाई का
کف افسوس ملواتی ہے تیری پاک دامانی
نچاکر شاہد عصمت کو جامہ پارسائی کا
تیری پاک دامانی ہمیں افسوس میں ہاتھ ملنے پر مجبور کرتی ہے، کیونکہ تُو نے عصمت کی حسینہ کو پارسائی کے لباس میں نچا دیا۔
15
नहीं देखा है लेकिन तुझको पहचाना हो आतिश ने
बजा है ऐ सनम जो तुझको दावा है ख़ुदाई का
نہیں دیکھا ہے لیکن تجھکو پہچانا ہو آتش نے
بجا ہے اے صنم جو تجھکو دعویٰ ہے خدائی کا
میں نے تجھے دیکھا نہیں، پھر بھی آتش نے تجھے پہچان لیا ہے۔ اے صنم، اگر تو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ بجا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
