دل اپنا آئینہ سے صاف عشق پاک کھتا ہو — خواجہ حیدر علی آتش

دل اپنا آئینہ سے صاف عشق پاک کھتا ہو تماشا دیکھتا ہے حُسن اس میں خود نمائی کا

“When the heart, pure as a mirror, speaks of love untainted, Beauty beholds within it the spectacle of its own display.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

جب دل آئینے کی طرح صاف ہو کر پاک محبت کی بات کہتا ہے، تو حُسن اُس میں اپنی ہی نمائش کا تماشا دیکھتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں دل کو ایک بے داغ آئینے سے تشبیہ دی گئی ہے، جو اتنا صاف اور شفاف ہے کہ اس پر کوئی میل نہیں۔ جب یہ پاکیزہ دل سچے اور بے آمیز عشق کی بات کرتا ہے تو حُسن یعنی محبوب اسی آئینے میں اپنا ہی عکس دیکھ کر محو ہو جاتا ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ سچی محبت وہ آئینہ ہے جس میں محبوب اپنے ہی جمال کا نظارہ کرتا ہے — عاشق کا صاف دل ہی محبوب کے حُسن کو جِلا بخشتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.