اسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونون ہین — خواجہ حیدر علی آتش
“Captive to you, O friend, are both the lover and beloved alike: this one bound in a chain of iron, that one in a chain of gold.”
معنی
اے دوست، تیرے عاشق اور معشوق دونوں ہی قیدی ہیں؛ ایک لوہے کی زنجیر میں جکڑا ہے تو دوسرا سونے کی زنجیر میں۔
تشریح
شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اے دوست، تیری محبت میں عاشق اور معشوق دونوں ہی قیدی ہیں — فرق صرف زنجیر کا ہے۔ عاشق لوہے کی سخت زنجیر میں جکڑا ہے یعنی تڑپ اور درد کی غلامی میں، جبکہ معشوق سونے کی نرم زنجیر میں بندھا ہے یعنی حسن اور ناز کی قید میں۔ گہری بات یہ ہے کہ محبت میں کوئی آزاد نہیں رہتا — چاہنے والا بھی اسیر ہے اور جسے چاہا جائے وہ بھی، بس اُن کی قید کا رنگ جدا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
