بھروسا آہ پر ہرگز نہین اے یار عاشق کو — خواجہ حیدر علی آتش

بھروسا آہ پر ہرگز نہین اے یار عاشق کو شکار ابتک کہین دیکھا نہین تیر ہوائی کا

“The lover places no trust in the sigh, O friend, at all— For never yet was any prey brought down by an arrow shot in air.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

عاشق کو اپنی آہ پر ہرگز بھروسا نہیں، اے دوست، کیونکہ ہوا میں چھوڑے گئے تیر سے آج تک کہیں کوئی شکار مارا ہوا نہیں دیکھا گیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ سچا عاشق اپنی آہوں پر ہرگز بھروسا نہیں کرتا، آہ کو ہوا میں چھوڑے گئے تیر سے تشبیہ دے کر۔ جیسے فضا میں یونہی چلایا گیا تیر کبھی کسی شکار کو نہیں گراتا، ویسے ہی بغیر صحیح نشانے کے نکلی آہیں محبوب کے دل تک نہیں پہنچتیں۔ یہ ایک نازک اشارہ ہے کہ آرزو خواہ کتنی ہی گہری ہو، اثر تبھی کرتی ہے جب اس کا نشانہ درست ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.