نظر آتی ہین ہر سُو صورتین ہی صورتین مجھکو — خواجہ حیدر علی آتش
“In every direction I behold but faces upon faces— is this workshop of the Divine some hall of endless mirrors?”
معنی
مجھے ہر طرف صرف چہرے ہی چہرے نظر آتے ہیں۔ کیا خدا کا یہ کارخانہ کوئی آئینوں کا گھر ہے؟
تشریح
شاعر حیرت سے کہتا ہے کہ جدھر بھی نظر اٹھائے، بس صورتیں ہی صورتیں دکھائی دیتی ہیں، اور سوچتا ہے کہ کہیں خدا کا یہ کارخانہ کوئی آئینہ خانہ تو نہیں۔ آئینہ خانے کا استعارہ نہایت گہرا ہے: جیسے شیش محل میں ایک ہی عکس بار بار جھلکتا ہے، ویسے ہی اس کائنات کے ہر چہرے میں اسی ایک ذات کا جلوہ نظر آتا ہے۔ یہ صوفیانہ وحدت الوجود کا تصور ہے — کہ یہ رنگا رنگ صورتیں دراصل اسی ایک ہستی کے بے شمار عکس ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
