نہین مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہین — خواجہ حیدر علی آتش
“Friends say the line carved in stone can never be erased— so on the idol's feet shall stay the imprint of my brow's embrace.”
معنی
احباب کہتے ہیں کہ پتھر پر کھنچی لکیر کبھی نہیں مٹتی، اِس لیے بُت کے قدموں پر میری جبیں رگڑنے کا نقش ہمیشہ باقی رہے گا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دوست اکثر کہتے ہیں کہ پتھر پر کھنچی لکیر کبھی نہیں مٹتی۔ تو وہ اپنے محبوب یا بت کے قدموں پر اس قدر شدت سے ماتھا ٹیکتا ہے کہ اُس کی جبہ سائی یعنی سجدے کا نشان ہمیشہ کے لیے وہیں نقش ہو جائے گا۔ یہاں عشق اور عبادت کی وہ گہرائی ہے جو مٹنے والی نہیں — شاعر کی عقیدت اور سپردگی پتھر کی لکیر کی طرح لافانی ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
