وصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پر — خواجہ حیدر علی آتش

وصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پر یقین مجھکو نہین ہے گور تک اپنی رسائی کا

“The promise of union with my love is set for the morrow of Resurrection; yet I have no faith that I shall even reach my grave.”

— خواجہ حیدر علی آتش

معنی

محبوب سے ملاقات کا وعدہ قیامت کے دن پر رکھا گیا ہے، مگر مجھے تو یہ یقین بھی نہیں کہ میں اپنی قبر تک پہنچ پاؤں گا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب سے وصال کی اُمید اور اپنی زندگی کی ناپائیداری کے درمیان ایک دردناک فاصلہ دکھاتا ہے۔ محبوب وصل کا وعدہ قیامت کے دن پر ٹال دیتا ہے، مگر شاعر کو تو یہ بھی یقین نہیں کہ وہ اپنی قبر تک پہنچ پائے گا۔ یہاں 'فردائے قیامت' کا وعدہ دراصل ٹالنے کا بہانہ ہے، اور شاعر کی یہ بے بسی اُس کی گہری بے قراری اور مختصر زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے — ایک ایسی تڑپ جو وصال کے انتظار ہی میں دم توڑتی معلوم ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.