فراق یار مین مرمر کے آخر زندگانی کی — خواجہ حیدر علی آتش
“In separation from the beloved, dying and dying, I at last lived out my life; Forever remained the anguish of the parting of the soul and the body.”
معنی
یارِ محبوب کی جدائی میں بار بار مرتے ہوئے آخرکار میں نے زندگی گزار دی؛ روح اور جسم کے جدا ہونے کا صدمہ ہمیشہ باقی رہا۔
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی جدائی میں وہ لمحہ لمحہ مرتا رہا، اور اسی گھٹن میں اس نے اپنی ساری زندگی کاٹ دی۔ گہری بات دوسرے مصرعے میں ہے کہ روح اور جسم کا ملاپ بھی ہمیشہ ایک صدمے کی طرح محسوس ہوا، گویا اپنے وجود کے اندر ہی ایک جدائی بسی ہوئی تھی۔ یوں ہجر صرف محبوب سے نہیں رہتا بلکہ انسان کی اپنی ہستی کا مقدر بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
