نہیں دیکھا ہے لیکن تجھکو پہچانا ہو آتش نے — خواجہ حیدر علی آتش
“I have not seen you, yet my passion's fire has recognized you true, It is but just, O idol mine, that you lay claim to the divine.”
معنی
میں نے تجھے دیکھا نہیں، پھر بھی آتش نے تجھے پہچان لیا ہے۔ اے صنم، اگر تو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ بجا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ اس نے اپنے محبوب کو آنکھوں سے نہیں دیکھا، مگر اس کے عشق کی آگ نے اسے پہچان لیا ہے۔ یہاں 'آتش' بیک وقت شاعر کا تخلص بھی ہے اور جذبے کی آگ کا اشارہ بھی — ایک خوبصورت دوہرا مفہوم۔ پھر وہ کہتا ہے کہ اے صنم، تیرا خدائی کا دعویٰ بالکل بجا ہے، کیونکہ جیسے خدا دکھائی نہیں دیتا مگر دل اسے پہچان لیتا ہے، ویسے ہی تو بھی ہے۔ محبوب کو خدا کے درجے تک اٹھا دینا عشق کی انتہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
