نکل اے جان تن سے تا وصال یار حاصل ہو — خواجہ حیدر علی آتش
“Depart, O soul, from this body, that union with the beloved be attained— For the garden's stroll is the nightingale's reward when at last it is set free.”
معنی
اے جان، اس بدن سے نکل جا تاکہ محبوب کا وصال حاصل ہو؛ جیسے بلبل کو رہائی ملنے پر باغ کی سیر نصیب ہوتی ہے، ویسے ہی روح کو بدن سے آزادی پر یار کا ملاپ ملتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنی جان سے کہتا ہے کہ تن کے پنجرے سے نکل جا، تاکہ محبوب سے وصال نصیب ہو۔ جیسے قید سے رہائی پانے والی بلبل کا انجام چمن کی سیر ہوتا ہے، ویسے ہی جان جب جسم کی قید سے آزاد ہوتی ہے تبھی اصل ملاپ ممکن ہے۔ کتنی لطیف بات ہے کہ یہاں موت خوف نہیں بلکہ آزادی اور وصال کا راستہ بن جاتی ہے — فنا ہی گویا بقا کا دروازہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
