غزل
سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر
سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر
یہ غزل ہجر کی تاریک راتوں اور بدقسمتی کے کرب کی عکاسی کرتی ہے، جہاں فراق کی کیفیت کو دمِ تحریر کاغذ پر گری سیاہی کے سیاہ داغ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس میں عشق کے سوز و گداز، محرومی اور دل کی تنہائی کو انتہائی پُراثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
सियाही जैसे गिर जाए दम-ए-तहरीर काग़ज़ पर
मिरी क़िस्मत में यूँ तस्वीर है शब-हा-ए-हिज्राँ की
سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر
مری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاۓ ہجراں کی
جس طرح لکھتے وقت کاغذ پر سیاہی گر جاتی ہے، بالکل اسی طرح میری قسمت میں جدائی کی راتوں کا اندھیرا لکھا ہوا ہے۔
2
कहूँ क्या गर्म-जोशी मय-कशी में शोला-रूयाँ की
कि शम-ए-ख़ाना-ए-दिल आतिश-ए-मय से फ़रोज़ाँ की
کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
شراب پینے میں شعلہ رخ محبوبوں کی گرم جوشی کا کیا بیاں کروں کہ انہوں نے شراب کی آگ سے دل کے گھر کی شمع کو روشن کر دیا۔
3
हमेशा मुझ को तिफ़्ली में भी मश्क़-ए-तीरह-रोज़ी थी
सियाही है मिरे अय्याम में लौह-ए-दबिस्ताँ की
ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
سیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی
مجھے بچپن میں بھی ہمیشہ بدقسمتی اور اندھیرے کی مشق رہتی تھی؛ میرے دنوں کی یہ سیاہی دراصل مکتب کی تختی کی روشنائی ہے۔
4
दरेग़ आह-ए-सहर-गह कार-ए-बाद-ए-सुब्ह करती है
कि होती है ज़ियादा सर्द-मेहरी शम्अ-रूयाँ की
دریغ آہ سحر گہ کار باد صبح کرتی ہے
کہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی
افسوس کہ میری صبح کی آہ صبح کی ہوا کا کام کرتی ہے، کیونکہ اس سے شمع جیسے چہرے والے محبوبوں کی بے رخی اور بڑھ جاتی ہے۔
5
मुझे अपने जुनूँ की बे-तकल्लुफ़ पर्दा-दारी थी
व-लेकिन क्या करूँ आवे जो रुस्वाई गरेबाँ की
مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی
میں بلا جھجھک اپنے جنون کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن کیا کروں جب پھٹے ہوئے گریبان نے ہی میری رسوائی کو ظاہر کر دیا۔
6
हुनर पैदा किया है मैं ने हैरत-आज़माई में
कि जौहर आइने का हर पलक है चश्म-ए-हैराँ की
ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں
کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی
میں نے حیرت کا تجربہ کرنے میں ایسا کمال حاصل کر لیا ہے کہ میری حیران آنکھ کی ہر پلک آئینے کے جوہر کی طرح بن گئی ہے۔
7
ख़ुदाया किस क़दर अहल-ए-नज़र ने ख़ाक छानी है
कि हैं सद-रख़्ना जूँ ग़िर्बाल दीवारें गुलिस्ताँ की
خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
اے خدا، اہل نظر نے کس قدر خاک چھانی اور تلاش کی ہے کہ باغ کی دیواریں سینکڑوں شگافوں کی وجہ سے چھلنی کی مانند ہو گئی ہیں۔
8
हुआ शर्म-ए-तही-दस्ती से से वो भी सर-निगूँ आख़िर
बस ऐ ज़ख़्म-ए-जिगर अब देख ले शोरिश नमक-दाँ की
ہوا شرم تہی دستی سے سے وہ بھی سرنگوں آخر
بس اے زخم جگر اب دیکھ لے شورش نمکداں کی
آخرکار خالی ہاتھ ہونے کی شرمندگی سے نمک دان نے بھی سر جھکا لیا؛ اے زخمِ جگر، اب بس تو اس نمک دان کی برپا کی ہوئی ہلچل دیکھ۔
9
बयाद-ए-गर्मी-ए-सोहबत ब-रंग-ए-शोला दहके है
छुपाऊँ क्यूँकि 'ग़ालिब' सोज़िशें दाग़-ए-नुमायाँ की
بیاد گرمیٔ صحبت بہ رنگ شعلہ دہکے ہے
چھپاؤں کیونکہ غالبؔ سوزشیں داغ نمایاں کی
محبوب کی صحبت کی گرمی کی یاد میں دل شعلے کی طرح دہک رہا ہے۔ اے غالب، اس قدر ظاہر داغ کی جلن کو بھلا میں کیسے چھپاؤں؟
10
जुनूँ तोहमत-कश-ए-तस्कीं न हो गर शादमानी की
नमक-पाश-ए-ख़राश-ए-दिल है लज़्ज़त ज़िंदगानी की
جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
نمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی
اگر دیوانگی پر خوشی سے تسکین حاصل کرنے کی تہمت نہ لگے، تو زندگی کی لذت دل کے زخم پر نمک چھڑکنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
11
कशाकश-हा-ए-हस्ती से करे क्या सई-ए-आज़ादी
हुइ ज़ंजीर-ए-मौज-ए-आब को फ़ुर्सत रवानी की
کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی
ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
انسان زندگی کی کشمکش سے چھٹکارا پانے کی کوشش کیوں کرے؟ کیا پانی کی لہروں کی زنجیر کو کبھی بہنے سے فرصت ملی ہے؟
12
न खींच ऐ सई-ए-दस्त-ए-ना-रसा ज़ुल्फ़-ए-तमन्ना को
परेशाँ-तर है मू-ए-ख़ामा से तदबीर मानी की
نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو
پریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی
اے بے بس ہاتھ کی ناکام کوشش، تو تمنا کی زلفوں کو مت کھینچ؛ کیونکہ مانی جیسے مصور کی تدبیر قلم کے بال سے بھی زیادہ الجھی ہوئی ہے۔
13
कहाँ हम भी रग-ओ-पै रखते हैं इंसाफ़ बहत्तर है
न खींचे ताक़त-ए-ख़म्याज़ा तोहमत ना-तवानी की
کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
نہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی
ہمارے اندر رگ و پٹھے ہی کہاں باقی بچے ہیں، انصاف تو یہی ہے کہ ہماری کمزوری کا الزام انگڑائی لینے کی مشقت پر نہ لگایا جائے۔
14
तकल्लुफ़-बरतरफ़ फ़रहाद और इतनी सुबु-दस्ती
ख़याल आसाँ था लेकिन ख़्वाब-ए-ख़ुसरव ने गिरानी की
تکلف برطرف فرہاد اور اتنی سبکدستی
خیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی
تکلف کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو کیا فرہاد کے ہاتھوں میں اتنی تیزی اور پھرتی تھی؟ یہ خیال کرنا تو آسان تھا لیکن خسرو کے خواب نے اس کام کو بے حد بھاری اور دشوار بنا دیا۔
15
पस-अज़-मुर्दन भी दीवाना ज़ियारत-गाह-ए-तिफ़्लाँ है
शरार-ए-संग ने तुर्बत पे मेरी गुल-फ़िशानी की
پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے
شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
مرنے کے بعد بھی یہ دیوانہ بچوں کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے، اور ان کے مارے ہوئے پتھروں سے نکلنے والی چنگاریوں نے میری قبر پر پھول نچھاور کیے ہیں۔
16
'असद' को बोरिए में धर के फूँका मौज-ए-हस्ती ने
फ़क़ीरी में भी बाक़ी है शरारत नौजवानी की
اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے
فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
زندگی کی لہر نے اسد کو بوریے میں لپیٹ کر جلا ڈالا، لیکن اس فقیری کے عالم میں بھی اس کی جوانی کی شرارت اور شوخی اب تک باقی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
