خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے — مرزا غالب

خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی

“O Lord, how thoroughly have the discerning sifted through dust, that the garden walls, breached with a hundred holes, have become like a sieve!”

— مرزا غالب

معنی

اے خدا، اہل نظر نے کس قدر خاک چھانی اور تلاش کی ہے کہ باغ کی دیواریں سینکڑوں شگافوں کی وجہ سے چھلنی کی مانند ہو گئی ہیں۔

تشریح

شاعر نے یہاں 'خاک چھاننے' کے عام محاورے کو ایک بے حد خوبصورت اور انوکھی تصویر میں ڈھالا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حسن اور حقیقت کے متلاشی اہل نظر نے دیدار کی چاہ میں اس قدر جستجو کی ہے کہ گلستاں کی دیواریں بھی چھلنی کی مانند سوراخ سوراخ ہو گئی ہیں۔ یہ شعر شوق اور طلب کی اس وارفتگی کا دلکش بیان ہے جہاں سچے طلبگار ایک جھلک پانے کے لیے ہر رکاوٹ میں راستہ بنا لیتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.