کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی — مرزا غالب
“How shall I tell of the fiery-faced beauties' fervor in drinking wine, for they lit the candle of the heart's abode with the liquor's blazing fire.”
معنی
شراب پینے میں شعلہ رخ محبوبوں کی گرم جوشی کا کیا بیاں کروں کہ انہوں نے شراب کی آگ سے دل کے گھر کی شمع کو روشن کر دیا۔
تشریح
شاعر یہاں اپنے شعلہ رو محبوبوں کے کیف و مستی اور ولولے کا دلکش نقشہ کھینچ رہا ہے، جن کی پرجوش مے نوشی نے ایک پُراثر سماں باندھ دیا۔ شراب کی یہ حرارت محض مدہوشی نہیں بلکہ وہ شعلہ بن گئی جس نے عاشق کے دل کے سنسان گوشے میں محبت کی شمع روشن کر دی۔ یہ شعر حسن کی جلوہ گری اور اس کیفیت کا جشن ہے جو دل کی تاریکی کو مٹا کر روح کو نور و حرارت سے بھر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
