ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں — مرزا غالب

ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میں کہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی

“Such mastery have I attained in testing wonder's art, that every lash of my marveling eye turns to the mirror's grain.”

— مرزا غالب

معنی

میں نے حیرت کا تجربہ کرنے میں ایسا کمال حاصل کر لیا ہے کہ میری حیران آنکھ کی ہر پلک آئینے کے جوہر کی طرح بن گئی ہے۔

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ میں نے محوِ حیرت رہنے میں ایسا کمال حاصل کر لیا ہے کہ حیرانی کی بھی انتہا ہو گئی ہے۔ پرانے زمانے کے آئینے صیقل کیے جاتے تھے جن پر باریک لکیریں ابھر آتی تھیں جنہیں 'جوہر' کہا جاتا تھا۔ میری حیرت زدہ آنکھ کی پھیلی ہوئی پلکیں آئینے کے جوہر کی مانند جم گئی ہیں، یعنی محبوب کے جلوے نے مجھے اس قدر مبہوت کر دیا ہے کہ میں خود سراپا آئینہ بن گیا ہوں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.