نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کو — مرزا غالب
“Draw not, O futile reach of the helpless hand, the tresses of desire; far more tangled than the split hair of the pen is the contrivance of meaning.”
معنی
اے بے بس ہاتھ کی ناکام کوشش، تو تمنا کی زلفوں کو مت کھینچ؛ کیونکہ مانی جیسے مصور کی تدبیر قلم کے بال سے بھی زیادہ الجھی ہوئی ہے۔
تشریح
غالب اپنے ہی بے بس اور کوتاہ دست کو سمجھاتے ہیں کہ تمنا کی بکھری ہوئی زلفوں کو سنوارنے کی لاحاصل کوشش مت کرو۔ وہ عظیم مصور مانی کی قلم کا استعارہ لاتے ہیں کہ جیسے ایک نازک ترین برش بھی معنی کی گہرائی کو تصویر کرنے میں الجھ کر رہ جاتا ہے، ویسے ہی زندگی کے راز اور خواہشیں انسانی فہم سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ یہ شعر انسان کی بے چارگی اور آرزو کی لامتناہی وسعت کا نہایت دلنشین اور گہرا بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
