دریغ آہ سحر گہ کار باد صبح کرتی ہے — مرزا غالب
“Alas, my dawn sigh merely does the work of the morning breeze—for it only deepens the cold indifference of the candle-faced beloved.”
معنی
افسوس کہ میری صبح کی آہ صبح کی ہوا کا کام کرتی ہے، کیونکہ اس سے شمع جیسے چہرے والے محبوبوں کی بے رخی اور بڑھ جاتی ہے۔
تشریح
روایتی غزل میں صبح کے وقت عاشق کی آہ کو بڑا بااثر اور دل پگھلانے والا مانا گیا ہے، مگر شاعر حسرت سے کہتا ہے کہ اس کا رونا الٹا اثر دکھا رہا ہے۔ اس کی پُرسوز آہ محبوب کے دل کو گرمانے کے بجائے صبح کی اس ٹھنڈی ہوا کا کام کر رہی ہے جو شمع کو بجھا کر سرد کر دیتی ہے۔ یوں شمع رو محبوب کے پاس جا کر عاشق کی آہ التجا بننے کے بجائے اس کی بے رخی اور سرد مہری کو اور بڑھا دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
