ہوا شرم تہی دستی سے سے وہ بھی سرنگوں آخر — مرزا غالب

ہوا شرم تہی دستی سے سے وہ بھی سرنگوں آخر بس اے زخم جگر اب دیکھ لے شورش نمکداں کی

“Ashamed of its empty hands, even it bowed its head at last; / Enough, O wound of the heart, behold the frenzy of the salt-cellar now!”

— مرزا غالب

معنی

آخرکار خالی ہاتھ ہونے کی شرمندگی سے نمک دان نے بھی سر جھکا لیا؛ اے زخمِ جگر، اب بس تو اس نمک دان کی برپا کی ہوئی ہلچل دیکھ۔

تشریح

شاعر نے یہاں کمال کی تخیلاتی منظر کشی کی ہے کہ نمکدان کو جب زخم پر الٹایا گیا تو وہ خالی نکلا، جیسے وہ اپنی تہی دستی کی شرم سے سر جھکائے کھڑا ہو۔ عاشق کا دل جلانے والا زخم اب اس نمکدان کی بے بس تڑپ اور شورش کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عشق کا ظرف اور زخموں کی پیاس اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کے ستم اور نمک بھی ان کے سامنے کم پڑ گئے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.