سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر — مرزا غالب
“As ink spills across the paper at the moment of writing, so in my destiny is sketched the darkness of parting's nights.”
معنی
جس طرح لکھتے وقت کاغذ پر سیاہی گر جاتی ہے، بالکل اسی طرح میری قسمت میں جدائی کی راتوں کا اندھیرا لکھا ہوا ہے۔
تشریح
شاعر نے اس شعر میں تقدیر کی بے بسی کو ایک نہایت خوبصورت اور دردناک تمثیل سے بیان کیا ہے۔ جیسے لکھتے ہوئے کاغذ پر اچانک سیاہی پھیل جائے اور سب کچھ سیاہ کر دے، ویسے ہی محبوب سے جدائی کی اندھیری راتیں شاعر کے نصیب پر ایک انمٹ داغ بن چکی ہیں۔ یہ ہجر کے اس گہرے دکھ کا اظہار ہے جسے مقدر کے قلم نے ہمیشہ کے لیے زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
