کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے — مرزا غالب
“Where do we even possess veins and sinew? Let justice fairly see: lest the mere strain of a weary stretch lay blame on our debility.”
معنی
ہمارے اندر رگ و پٹھے ہی کہاں باقی بچے ہیں، انصاف تو یہی ہے کہ ہماری کمزوری کا الزام انگڑائی لینے کی مشقت پر نہ لگایا جائے۔
تشریح
غالب اس شعر میں اپنی انتہائی لاچاری اور بے وجودی کو بڑے دلکش اور شوخ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم پر ناتوانی کا الزام بھی نہ دھرا جائے، کیونکہ کمزور کہلانے کے لیے بھی جسم میں رگ و پے کی موجودگی درکار ہے جو ہمارے پاس ہے ہی نہیں۔ ہم اس حد تک بے سکت ہو چکے ہیں کہ ایک انگڑائی یا جمائی لینے کے تکلف کو بھی ہماری کمزوری پر محمول نہ کیا جائے، ہم تو جیسے مٹ چکے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
