مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی — مرزا غالب

مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی ولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی

“I sought with effortless grace to veil the madness of my soul, / But what could I do when my torn collar bared my shame to all?”

— مرزا غالب

معنی

میں بلا جھجھک اپنے جنون کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن کیا کروں جب پھٹے ہوئے گریبان نے ہی میری رسوائی کو ظاہر کر دیا۔

تشریح

شاعر یہاں اپنے دل کی اس بے بسی کا ذکر کر رہا ہے کہ وہ اپنے جنونِ عشق کو زمانے کی نگاہوں سے بڑی سادگی کے ساتھ چھپائے رکھنا چاہتا تھا۔ مگر عشق کی بے تاب دیوانگی میں جب اس کا ہاتھ اپنے ہی گریبان تک جا پہنچا، تو گریبان کا چاک ہونا اس کے راز کو سرِ عام فاش کر گیا۔ اب وہ چاہے بھی تو کچھ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کے اپنے ہی پھٹے ہوئے لباس نے اس کے جنون کی رسوائی کا اعلان کر دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.