کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی — مرزا غالب
“Why strive for freedom from the ceaseless struggles of life? Has the wave-forged chain of water ever won respite from its flow?”
معنی
انسان زندگی کی کشمکش سے چھٹکارا پانے کی کوشش کیوں کرے؟ کیا پانی کی لہروں کی زنجیر کو کبھی بہنے سے فرصت ملی ہے؟
تشریح
غالب اس شعر میں ایک گہری اور دل نشین بات سمجھاتے ہیں کہ زندگی کی الجھنوں اور کشمکش سے چھٹکارا پانے کی ضد بھلا کیسی؟ وہ بہتے ہوئے پانی کی تمثیل لاتے ہیں جس کی لہریں ایک دوسرے سے جڑ کر زنجیر بنتی ہیں، مگر کیا وہ زنجیر پانی کو بہاؤ سے روک سکتی ہے؟ اصل میں یہ جدوجہد اور بے چینی زندگی پر کوئی عذاب نہیں، بلکہ زندگی کا حسن اور اس کا بنیادی وصف ہی رواں دواں رہنا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
