اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نے — مرزا غالب
“Life’s reckless tide wrapped Asad in a pauper’s mat and burned him down; yet even in ascetic poverty, the mischief of youth still lives on.”
معنی
زندگی کی لہر نے اسد کو بوریے میں لپیٹ کر جلا ڈالا، لیکن اس فقیری کے عالم میں بھی اس کی جوانی کی شرارت اور شوخی اب تک باقی ہے۔
تشریح
اس شعر میں غالب اپنی بے باک اور زندہ دل طبیعت کی لاجواب تصویر کھینچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی کے تند و تیز طوفان نے انہیں درویشی کے بوسیدہ بوریے میں لپیٹ کر جلا کر خاک کر دیا، یعنی گردشِ ایام نے انہیں کڑی مفلسی اور آزمائشوں میں جھونک دیا۔ لیکن کمال یہ ہے کہ اس فقیری اور کسمپرسی میں بھی ان کا چنچل پن اور جوانی کی شوخ شرارت بدستور قائم ہے۔ یہ شعر سکھاتا ہے کہ مصائب انسان کے بیرونی حالات تو بدل سکتے ہیں، مگر اس کے اندر کی زندہ دلی کو نہیں چھین سکتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
