غزل

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
داغ دہلوی· Ghazal· 15 shers· radif: देखते हैं

یہ غزل عشق کی اس تڑپ کو پیش کرتی ہے جہاں عاشق دیر و حرم کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر بہانے اپنے محبوب کا جلوہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس میں محبوب کی بے رخی اور بدلتی نگاہوں سے جنم لینے والے رنج و ملال کی پُرتاثیر عکاسی کی گئی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
तमाशा-ए-दैर-ओ-हरम देखते हैं तुझे हर बहाने से हम देखते हैं
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
ہم مندر اور مسجد کا تماشا دیکھتے ہیں، مگر ہر بہانے سے دراصل ہم صرف تجھے ہی دیکھتے ہیں۔
2
हमारी तरफ़ अब वो कम देखते हैं वो नज़रें नहीं जिन को हम देखते हैं
ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں
اب وہ ہماری طرف بہت کم دیکھتے ہیں، اور ان کی نظریں بھی اب ویسی نہیں رہیں جنہیں ہم دیکھا کرتے تھے۔
3
ज़माने के क्या क्या सितम देखते हैं हमीं जानते हैं जो हम देखते हैं
زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
ہم زمانے کے بے شمار ظلم و ستم دیکھتے ہیں، اور جو کچھ ہم دیکھ اور جھیل رہے ہیں اسے صرف ہم ہی جانتے ہیں۔
4
फिरे बुत-कदे से तो ऐ अहल-ए-काबा फिर आ कर तुम्हारे क़दम देखते हैं
پھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہ پھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں
اے کعبہ والو، اگر ہم بت کدے سے واپس لوٹے، تو پھر آ کر تمہارے قدم دیکھیں گے۔
5
हमें चश्म-ए-बीना दिखाती है सब कुछ वो अंधे हैं जो जाम-ए-जम देखते हैं
ہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب کچھ وہ اندھے ہیں جو جام جم دیکھتے ہیں
ہماری دیکھنے اور سمجھنے والی آنکھ ہی ہمیں سب کچھ دکھا دیتی ہے، جبکہ وہ لوگ اندھے ہیں جو دنیا دیکھنے کے لیے جامِ جم کا سہارا لیتے ہیں۔
6
न ईमा-ए-ख़्वाहिश न इज़हार-ए-मतलब मिरे मुँह को अहल-ए-करम देखते हैं
نہ ایمائے خواہش نہ اظہار مطلب مرے منہ کو اہل کرم دیکھتے ہیں
میں نے نہ تو اپنی کسی خواہش کا اشارہ دیا ہے اور نہ ہی اپنی ضرورت کا اظہار کیا ہے، پھر بھی سخی لوگ میرا منہ دیکھ رہے ہیں۔
7
कभी तोड़ते हैं वो ख़ंजर को अपने कभी नब्ज़-ए-बिस्मिल में दम देखते हैं
کبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنے کبھی نبض بسمل میں دم دیکھتے ہیں
کبھی وہ اپنے خنجر کو توڑ دیتے ہیں اور کبھی اپنے زخمی یا تڑپتے ہوئے شکار کی نبض ٹٹول کر دیکھتے ہیں کہ اس میں ابھی دم باقی ہے یا نہیں۔
8
ग़नीमत है चश्म-ए-तग़ाफ़ुल भी उन की बहुत देखते हैं जो कम देखते हैं
غنیمت ہے چشم تغافل بھی ان کی بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں
ان کی بے رخی اور تغافل بھری نگاہ بھی غنیمت ہے، کیونکہ جو لوگ کم دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں بہت کچھ دیکھ لیتے ہیں۔
9
ग़रज़ क्या कि समझें मिरे ख़त का मज़मूँ वो उनवान ओ तर्ज़-ए-रक़म देखते हैं
غرض کیا کہ سمجھیں مرے خط کا مضموں وہ عنوان و طرز رقم دیکھتے ہیں
انہیں میرے خط کا مضمون سمجھنے سے کیا مطلب، وہ تو صرف اس کا عنوان اور لکھنے کا انداز دیکھتے ہیں۔
10
सलामत रहे दिल बुरा है कि अच्छा हज़ारों में ये एक दम देखते हैं
سلامت رہے دل برا ہے کہ اچھا ہزاروں میں یہ ایک دم دیکھتے ہیں
دل چاہے اچھا ہو یا برا، سلامت رہے؛ کیونکہ ہزاروں میں ہم اسی ایک دم یا زندگی کو دیکھتے ہیں۔
11
रहा कौन महफ़िल में अब आने वाला वो चारों तरफ़ दम-ब-दम देखते हैं
رہا کون محفل میں اب آنے والا وہ چاروں طرف دم بدم دیکھتے ہیں
اب محفل میں آنے کے لیے کون باقی رہ گیا ہے؟ پھر بھی وہ مسلسل چاروں طرف دیکھے جا رہے ہیں۔
12
उधर शर्म हाइल इधर ख़ौफ़ माने न वो देखते हैं न हम देखते हैं
ادھر شرم حائل ادھر خوف مانع نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں
اُس طرف شرم آڑے آ رہی ہے اور اِس طرف خوف روک رہا ہے، اس لیے نہ وہ دیکھتے ہیں اور نہ ہم دیکھتے ہیں۔
13
उन्हें क्यूँ न हो दिलरुबाई से नफ़रत कि हर दिल में वो ग़म अलम देखते हैं
انہیں کیوں نہ ہو دل ربائی سے نفرت کہ ہر دل میں وہ غم الم دیکھتے ہیں
انہیں دل لبھانے یا دل موہ لینے سے نفرت کیوں نہ ہو، جب کہ وہ ہر دل میں محض رنج اور تکلیف ہی دیکھتے ہیں۔
14
निगहबाँ से भी क्या हुई बद-गुमानी अब उस को तिरे साथ कम देखते हैं
نگہباں سے بھی کیا ہوئی بد گمانی اب اس کو ترے ساتھ کم دیکھتے ہیں
نگہبان یا محافظ سے بھی کیا بدگمانی ہو گئی ہے کہ اب ہم اسے آپ کے ساتھ بہت کم دیکھتے ہیں؟
15
हमें 'दाग़' क्या कम है ये सरफ़राज़ी कि शाह-ए-दकन के क़दम देखते हैं
ہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازی کہ شاہ دکن کے قدم دیکھتے ہیں
اے داغؔ، ہمارے لیے یہ سرفرازی اور عزت کیا کم ہے کہ ہمیں شاہِ دکن کے قدم دیکھنے کا شرف حاصل ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.