زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں — داغ دہلوی

زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

“What countless cruelties of the world our eyes behold; only we truly know the sorrows that we see.”

— داغ دہلوی

معنی

ہم زمانے کے بے شمار ظلم و ستم دیکھتے ہیں، اور جو کچھ ہم دیکھ اور جھیل رہے ہیں اسے صرف ہم ہی جانتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر اس تنہا اور خاموش کرب کی عکاسی کرتا ہے جسے انسان زمانے کی بھیڑ میں چپ چاپ برداشت کرتا ہے۔ دنیا کے ستم تو بے شمار ہیں، مگر ان زخموں کی گہرائی اور تلخی کا اصل احساس صرف اسی دل کو ہوتا ہے جو ان سے گزر رہا ہے۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ محض حالات کا ایک منظر ہے، مگر اس منظر کی اصل چوٹ صرف وہی روح جانتی ہے جس پر یہ سب بیت رہا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.