ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں — داغ دہلوی

ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں

“Rarely do they turn their gaze towards me now; these are not the eyes my eyes once sought to see.”

— داغ دہلوی

معنی

اب وہ ہماری طرف بہت کم دیکھتے ہیں، اور ان کی نظریں بھی اب ویسی نہیں رہیں جنہیں ہم دیکھا کرتے تھے۔

تشریح

یہ شعر تعلقات میں پیدا ہونے والی خاموش دوری اور بے رخی کے کرب کو کمال سادگی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کا التفات اب کم ہو گیا ہے، مگر اصل دکھ یہ ہے کہ جب وہ دیکھتا بھی ہے تو اس کی نظروں میں وہ پرانی اپنائیت، تڑپ اور مٹھاس باقی نہیں رہی۔ یہ دراصل اس لمحے کا نوحہ ہے جہاں مانوس نگاہیں اجنبی ہو جاتی ہیں اور شناسائی کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.