تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں — داغ دہلوی
“We watch the spectacle of the temple and the shrine; on every pretext, it is You we seek to behold.”
معنی
ہم مندر اور مسجد کا تماشا دیکھتے ہیں، مگر ہر بہانے سے دراصل ہم صرف تجھے ہی دیکھتے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ مندر اور مسجد کی تمام تر رونقیں اور جھگڑے دراصل محبوب کے دیدار کا محض ایک بہانہ ہیں۔ چاہے یہ عشقِ حقیقی ہو یا عشقِ مجازی، سچی محبت ظاہری رسومات اور مذہبی حد بندیوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ عاشق کا دل کسی ایک مقام کی قید میں نہیں آتا، بلکہ وہ زندگی کے ہر جلوے میں صرف اور صرف اپنے محبوب ہی کو تلاش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
