کبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنے — داغ دہلوی
“At times they break the dagger in their hand; at times they test the dying prey's pulse for breath.”
معنی
کبھی وہ اپنے خنجر کو توڑ دیتے ہیں اور کبھی اپنے زخمی یا تڑپتے ہوئے شکار کی نبض ٹٹول کر دیکھتے ہیں کہ اس میں ابھی دم باقی ہے یا نہیں۔
تشریح
یہ شعر محبوب کی ستم ظریفی اور اس کی متضاد کیفیات کی نہایت دلکش تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ کبھی پشیمان ہو کر اپنے ہی خنجر کو توڑ دیتا ہے اور کبھی تڑپتے ہوئے بسمل کی نبض تھام کر دیکھتا ہے کہ ابھی کتنی سانسیں باقی ہیں۔ عاشق کے لیے یہ سب سے اذیت ناک لمحہ ہے، جہاں محبوب نہ تو اسے پوری طرح مارتا ہے اور نہ ہی جینے دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
