ہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازی — داغ دہلوی
“Is this exaltation any small honour for us, O Dagh, that our eyes are blessed to behold the feet of the King of the Deccan?”
معنی
اے داغؔ، ہمارے لیے یہ سرفرازی اور عزت کیا کم ہے کہ ہمیں شاہِ دکن کے قدم دیکھنے کا شرف حاصل ہے۔
تشریح
داغؔ اس شعر میں حیدرآباد کے نظام یعنی شاہِ دکن کی بارگاہ میں اپنی حاضری پر بڑے پیار اور فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا سر بلندی ہو سکتی ہے کہ ہمیں بادشاہِ وقت کے قدموں کی زیارت نصیب ہے۔ یہاں عقیدت اور دربار داری کا ایک دلکش رنگ ہے، جہاں محبوب یا مربی کے قدموں میں رہنا ہی اصل سرفرازی اور سب سے بڑا اعزاز بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
