غزل
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ
یہ غزل عشق کی شدت، تڑپ اور قربانی کے جذبے کو نہایت پرتاثیر انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر نے اپنے بہتے آنسوؤں، دل کے ٹکڑوں اور زخموں کی تمنا کے ذریعے محبوب کے ستم اور تیغِ ستم کو بھی شوق سے قبول کرنے کی کیفیت کو اجاگر کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
टुकड़े नहीं हैं आँसुओं में दिल के चार पाँच
सुरख़ाब बैठे पानी में हैं मिल के चार पाँच
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ
سرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ
یہ آنسوؤں میں دل کے چار پانچ ٹکڑے نہیں ہیں، بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پانی میں چار پانچ سرخاب مل کر بیٹھے ہوئے ہوں۔
2
मुँह खोले हैं ये ज़ख़्म जो बिस्मिल के चार पाँच
फिर लेंगे बोसे ख़ंजर-ए-क़ातिल के चार पाँच
منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسمل کے چار پانچ
پھر لیں گے بوسے خنجر قاتل کے چار پانچ
بسمل کے جسم پر جو چار پانچ کھلے ہوئے زخم ہیں، وہ قاتل کے خنجر کو چار پانچ بار پھر چومنے کے لیے منہ کھولے ہوئے ہیں۔
3
कहने हैं मतलब उन से हमें दिल के चार पाँच
क्या कहिए एक मुँह हैं वहाँ मिल के चार पाँच
کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچ
کیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ
ہمیں ان سے اپنے دل کی چار پانچ باتیں کہنی ہیں، لیکن کیا کہیں جب وہاں چار پانچ لوگ مل کر ایک زبان ہو رہے ہیں۔
4
दरिया में गिर पड़ा जो मिरा अश्क एक गर्म
बुत-ख़ाने लब पे हो गए साहिल के चार पाँच
دریا میں گر پڑا جو مرا اشک ایک گرم
بت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ
جب میرا ایک گرم آنسو دریا میں جا گرا تو ساحل کے کنارے چار پانچ بت خانے بن گئے۔
5
दो-चार लाशे अब भी पड़े तेरे दर पे हैं
और आगे दब चुके हैं तले गिल के चार पाँच
دو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیں
اور آگے دب چکے ہیں تلے گل کے چار پانچ
تمھاری دہلیز پر اب بھی دو چار لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اور اس سے آگے چار پانچ لاشیں مٹی تلے دفن ہو چکی ہیں۔
6
राहें हैं दो मजाज़ ओ हक़ीक़त है जिन का नाम
रस्ते नहीं हैं इश्क़ की मंज़िल के चार पाँच
راہیں ہیں دو مجاز و حقیقت ہے جن کا نام
رستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ
عشق کی منزل تک پہنچنے کے صرف دو ہی راستے ہیں جن کے نام مجاز اور حقیقت ہیں، اس کے کوئی چار پانچ راستے نہیں ہیں۔
7
रंज ओ ताब मुसीबत ओ ग़म यास ओ दर्द ओ दाग़
आह ओ फ़ुग़ाँ रफ़ीक़ हैं ये दिल के चार पाँच
رنج و تعب مصیبت و غم یاس و درد و داغ
آہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ
رنج، تکلیف، مصیبت، غم، مایوسی، درد، داغ، آہ اور فریاد—یہی سب دل کے گنے چنے ساتھی ہیں۔
8
दो तीन झटके दूँ जूँ ही वहशत के ज़ोर में
ज़िंदाँ में टुकड़े होवें सलासिल के चार पाँच
دو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میں
زنداں میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ
وحشت اور جنون کے زور میں جیسے ہی میں دو تین جھٹکے دیتا ہوں، قید خانے میں زنجیروں کے چار پانچ ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔
9
फ़रहाद ओ क़ैस ओ वामिक़ ओ अज़रा थे चार दोस्त
अब हम भी आ मिले तो हुए मिल के चार पाँच
فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوست
اب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ
فرہاد، قیس، وامق اور عذرا چار دوست ہوا کرتے تھے۔ اب میں بھی ان میں شامل ہو گیا ہوں تو ہم سب مل کر چار پانچ ہو گئے ہیں۔
10
नाज़ ओ अदा ओ ग़म्ज़ा निगह पंजा-ए-मिज़ा
मारें हैं एक दिल को ये पिल पिल के चार पाँच
ناز و ادا و غمزہ نگہ پنجۂ مژہ
ماریں ہیں ایک دل کو یہ پل پل کے چار پانچ
ناز، ادا، غمزہ، نگاہ اور پلکوں کا پنجہ—یہ چار پانچوں مل کر ایک اکیلے دل پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور اسے بار بار نشانہ بناتے ہیں۔
11
ईमा है ये कि देवेंगे नौ दिन के बाद दिल
लिख भेजे ख़त में शे'र जो बे-दिल के चार पाँच
ایما ہے یہ کہ دیویں گے نو دن کے بعد دل
لکھ بھیجے خط میں شعر جو بیدل کے چار پانچ
یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ نو دنوں کے بعد اپنا دل دیں گے، کیونکہ انہوں نے خط میں بیدل کے چار پانچ شعر لکھ کر بھیجے ہیں۔
12
हीरे के नौ-रतन नहीं तेरे हुए हैं जमा
ये चाँदनी के फूल मगर खिल के चार पाँच
ہیرے کے نورتن نہیں تیرے ہوئے ہیں جما
یہ چاندنی کے پھول مگر کھل کے چار پانچ
تمہارے پاس ہیرے کے نو رتن جمع نہیں ہوئے ہیں، بلکہ چاندنی کے یہ چار پانچ پھول ہی کھلے ہیں۔
13
मीना-ए-नुह-फ़लक है कहाँ बादा-ए-नशात
शीशे हैं ये तो ज़हर-ए-हलाहल के चार पाँच
مینائے نہہ فلک ہے کہاں بادۂ نشاط
شیشے ہیں یہ تو زہر ہلاہل کے چار پانچ
نو آسمانوں کی اس صراحی میں خوشی کی شراب کہاں ہے؟ یہ تو بس مہلک اور جان لیوا زہر کی چار پانچ بوتلیں ہیں۔
14
नाख़ुन करें हैं ज़ख़्मों को दो दो मिला के एक
थे आठ दस सो हो गए अब छिल के चार पाँच
ناخن کریں ہیں زخموں کو دو دو ملا کے ایک
تھے آٹھ دس سو ہو گئے اب چھل کے چار پانچ
ناخن کھرچ کر دو دو زخموں کو ملا کر ایک کر رہے ہیں؛ پہلے جو آٹھ دس زخم تھے، اب چھل کر چار پانچ رہ گئے ہیں۔
15
गर अंजुम-ए-फ़लक से भी तादाद कीजिए
निकलें ज़ियादा दाग़ मिरे दिल के चार पाँच
گر انجم فلک سے بھی تعداد کیجئے
نکلیں زیادہ داغ مرے دل کے چار پانچ
اگر آسمان کے ستاروں سے بھی گنتی کی جائے، تو میرے دل کے داغ ان سے بھی چار پانچ زیادہ ہی نکلیں گے۔
16
मारें जो सर पे सिल को उठा कर क़लक़ से हम
दस पाँच टुकड़े सर के हों और सिल के चार पाँच
ماریں جو سر پہ سل کو اٹھا کر قلق سے ہم
دس پانچ ٹکڑے سر کے ہوں اور سل کے چار پانچ
اگر ہم شدید رنج و غم کی حالت میں پتھر کی بھاری سل اٹھا کر اپنے سر پر مار لیں، تو ہمارے سر کے دس پانچ ٹکڑے ہو جائیں گے اور خود اس پتھر کے بھی چار پانچ ٹکڑے ہو جائیں گے۔
17
मान ऐ 'ज़फ़र' तू पंज-तन ओ चार-यार को
हैं सदर-ए-दीन की यही महफ़िल के चार पाँच
مان اے ظفرؔ تو پنج تن و چار یار کو
ہیں صدر دین کی یہی محفل کے چار پانچ
اے ظفر، تم پنج تن اور چار یار کو مانو اور ان کا احترام کرو، کیونکہ دین کی محفل کے اصل صدر یہی چار پانچ ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
