“These four or five wounds that gape open on the slain / Will kiss the killer's dagger four or five times again.”
بسمل کے جسم پر جو چار پانچ کھلے ہوئے زخم ہیں، وہ قاتل کے خنجر کو چار پانچ بار پھر چومنے کے لیے منہ کھولے ہوئے ہیں۔
اس شعر میں عشق کی وہ وارفتگی اور دیوانگی نظر آتی ہے جہاں عاشق اپنے زخموں پر شکوہ کرنے کے بجائے ان پر فخر کرتا ہے۔ شاعر نے زخم کے کھلے ہوئے دہانے کو ہونٹوں سے تشبیہ دی ہے جو درد کی چیخ نہیں بلکہ محبوب کے خنجر کو دوبارہ چومنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یہ اپنے محبوب کے ہاتھوں فنا ہو جانے کی وہ لذت ہے جس میں معشوق کا ظلم بھی عاشق کے حق میں سب سے بڑا انعام بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
