“The moment I give two or three fierce jolts in the frenzy of madness, into four or five pieces shatter the chains within the prison.”
وحشت اور جنون کے زور میں جیسے ہی میں دو تین جھٹکے دیتا ہوں، قید خانے میں زنجیروں کے چار پانچ ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔
اس شعر میں شاعر عشق اور جنون کی اس بے پناہ قوت کا ذکر کر رہا ہے جو دنیا کی ہر بندش کو توڑ ڈالتی ہے۔ زنداں کی آہنی زنجیریں دراصل عقل، سماجی پابندیوں اور جبر کی علامت ہیں، لیکن دیوانے کی وحشت کے زور کے آگے یہ سلاسل تنکے ثابت ہوتے ہیں۔ بس چند جھٹکوں میں بیڑیوں کا بکھر جانا یہ بتاتا ہے کہ سچی دیوانگی اور آزادی کی تڑپ کو کوئی بھی قید روک نہیں سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
